نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 677 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 677

زیادہ سہل کو مدنظر رکھا گیا ہے۔۔۔قرآن کریم میں کوئی ایسی تعلیم نہیں جس میں فطرت انسانی کے کسی پہلو کو نظر انداز کیا گیا ہو یا کوئی ایسی تعلیم دی گئی ہو جس پر عمل کرنا لوگوں کو بارِ خاطر معلوم ہو بلکہ اس کی تعلیم انسانی فطرت کے مطابق ہے اور اس میں ایسی سہولتیں موجود ہیں جن کی وجہ سے ہر فطرت کا انسان اس کے احکام پر عمل کر سکتا ہے۔یہ ٹینری قرآن کریم ہے۔کیا بلحاظ اس کے کہ اس کو حفظ کرنا نہایت آسان ہے اور کیا بلحاظ اس کے کہ عمل کرنا نہایت آسان ہے۔یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے جس کا جواب دینا نہایت ضروری ہے اور وہ یہ کہ اسلام میں تو روزانہ پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم ہے اور عیسائیوں میں ہفتہ میں صرف ایک دن تھوڑی دیر کے لئے عبادت کرنے کا حکم ہے۔اب بتاؤ ان دونوں میں سے کون سی تعلیم آسان ہوئی ؟ اسلام کی جس میں روزانہ پانچ وقت نمازیں پڑھنے کا حکم ہے یا عیسائیت کی جس میں ہفتہ میں صرف ایک دن تھوڑی دیر کے لئے عبادت کرنے کا حکم ہے؟ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ یسری ایسی چیز کو بھی کہتے ہیں جو خواہ جسمانی طور پر تکلیف دہ ہو لیکن روحانی طور پر انسان کے لئے نہایت فرحت بخش ہو۔اسلام میں گوروزانہ پانچ وقت نمازیں پڑھنے کا حکم ہے مگر چونکہ نماز میں انسان کا اپنا روحانی فائدہ ہے اس لئے پانچ نمازیں پڑھنا اُس کے لئے آسان ہو جائے گا بہ نسبت اس ایک نماز کے جو ہفتہ میں صرف ایک دن پڑھنی پڑے۔مومن کہے گا کہ میرے لئے یہ پانچ نمازیں به نسبت ہفتہ والی صرف ایک نماز کے زیادہ آسان ہیں کیونکہ صرف ایک نماز کے نتیجہ میں میرا خدا مجھ سے چھوٹ جاتا ہے اور پانچ نمازوں کے نتیجہ میں میرا خدا مجھ سے مل جاتا ہے۔پس یسری سے مراد ظاہری آسانی نہیں بلکہ روحانی فوائد کے اعتبار سے آسانی مراد ہے کہ جب انسان روحانی فائدہ دیکھتا ہے تو عمل اُس کے لئے آسان ہو جاتا ہے۔وَنُيَتِرُكَ لِلْيُسْری کے ایک یہ بھی معنے ہیں کہ ہم تجھے ایسی تعلیم دیں گے جس میں 677