نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 588 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 588

کیونکہ قول کا حسن جاذبیت کے معنی رکھتا ہے اس لئے تم جس بات کو پیش کروا سے اس طرح پیش کرو کہ لوگوں میں اس کے لئے کشش پیدا ہو نہ کہ نفرت میں اور بھی انگیخت ہو جائے۔پس یہ پہلو بھی قول کے حسن کے ساتھ بڑا گہرا تعلق رکھتا ہے۔احسن کہ کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمہاری گفتگو کا طریق نہایت عمدہ ہونا چاہیئے۔ایسی گفتگو کریں جس میں تقویٰ ہو، سچائی ہو، گہرائی ہوا اور وزن ہو۔لوگوں کو صداقت از خود جھلکتی ہوئی نظر آ رہی ہو۔دیکھنے والے عش عش کر اٹھیں اور بے اختیار کہنے لگیں کہ یہ تو سچائی بول رہی ہے اور وہ ان کو قبول حق پر مجبور کردے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بہت سے صحابہ کم علمی کے باوجود اس لئے کامیاب مبلغ تھے کہ ان کی بات میں وزن تھا، ان کے اندر سچائی تھی ، ان میں سادگی تھی اور سادگی بجائے خود ایک قوت تھی۔ان چیزوں نے مل کر ان کی زبان میں اور ان کے قول میں ایک حسن پیدا کر دیا تھا۔ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَن کا جو نتیجہ قرآن کریم بعد میں ذکر کرتا ہے وہ نتیجہ ان کو حاصل ہوا۔داعی الی اللہ کا دوسرا پہلو اعمال کو حسین بنانے سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ دو باتیں بیان فرمائی تھیں۔ایک یہ کہ مومن داعی الی اللہ ہوتا ہے۔دوسرے یہ کہ عمل صالحا یعنی وہ نیک اعمال بھی بجالاتا ہے۔گویا نیک اعمال کو اس طرح ادا کرتا ہے کہ وہ احسن بن جائیں۔یہاں نیک اعمال بمقابلہ بداعمال مراد ہیں۔یہ ایک مقابلہ کی صورت ہے جو یہاں پیش کی گئی ہے۔مثلاً لوگ مال لوٹتے ہیں،گھر جلاتے ہیں، طرح طرح کے دکھ دیتے ہیں اسکے باوجود اپنے دل کو اس بات پر آمادہ رکھنا اور اس کی ایسی تربیت کرنا کہ خود دشمن جب دکھ میں مبتلا ہو تو اس کی مدد کی جائے گویا اعمال کے لحاظ سے یہ اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کی ایک بہترین صورت ہے۔ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کا دوسرا پہلو اندرونی تربیت سے بھی تعلق رکھتا ہے۔فرمایا جب بھی تمہارے اندر کوئی برائی پیدا ہونے لگے تو اس کو حسن سے دور کرو اور جب بھی معاشرہ میں تربیت کے معاملہ میں کوئی برائی پیدا ہو اس کو بھی حسن سے دور کرو۔یہ مضمون بھی اپنی ذات میں بڑا گہرا اور تفصیلی ہے۔قرآن کریم نے کہیں بھی Annihilism یعنی ملیا میٹ کر دینے کا کوئی فلسفہ پیش نہیں کیا۔قرآن کریم نے کہیں بھی کسی 588