نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 587 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 587

ہیں کیونکہ ان کو ہتھیار کا استعمال نہیں آتا تھا۔چنانچہ 1967ء کی مصر اسرائیل جنگ میں رشیا کی طرف سے مصریوں کو بڑے Sophisticated Weapons عمدہ اور ترقی یافتہ ہتھیار دئیے گئے تھے لیکن مصریوں کو ابھی ان کا استعمال کرنا نہیں آیا تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ دشمنوں نے ان ہتھیاروں پر قبضہ کیا اور پھر ان کو مصریوں کے خلاف استعمال کیا۔پس احسن دلیل سے صرف یہ مراد نہیں کہ دلیل فی ذاتہ مضبوط ہو بلکہ اس کو پیش کرنے کا ڈھنگ بھی احسن ہو اور اس پر پوری طرح عبور بھی حاصل ہو۔اس پہلو سے جب ہم تربیتی کلاسز منعقد کرتے ہیں تو ہمیں حکمت کے اس نکتے سے اس موقعہ پر بھی زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہئے۔کوئی بھی طالب علم جس کو ایسی کلاسوں میں جانے کا تھوڑا سا وقت ملتا ہے ، اس کو بجائے اس کے زیادہ سے زیادہ دلائل سمجھائے جائیں جن سے فائدہ کی بجائے آہستہ آہستہ ذہن Confuse یعنی خلط مبحث پیدا ہو جائے ، کوشش کی جائے کہ قرآنی تعلیم کے مطابق ایک چوٹی کی دلیل چنی جائے جو اس کو یاد کروائی جائے۔اس میں اسے صیقل کیا جائے اس کے سارے پہلو ذہن میں اجاگر کئے جائیں تا کہ وہ اسے زیادہ عمدگی کے ساتھ استعمال کر سکے اور پھر اس دلیل پر جو حملہ ہوتا ہے اس کا جواب بھی تفصیل سے سمجھایا جائے۔گویا ایک دلیل کو لے کر اس پر پوری مہارت پیدا کر دی جائے تو یہ ادفع باليني هِيَ أَحْسَن کے حکم کی اطاعت ہوگی۔۔۔غرض ادفع بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کے تابع ہر احمدی جو داعی الی اللہ بننا چاہتا ہے اس کو پہلے تمام اختلافی مسائل کی کوئی ایک دلیل چن لینی چاہئے۔لیکن وہ دلیل چنی چاہئے جس پر وہ ذہنی اور علمی لحاظ سے خوب عبور حاصل کر سکتا ہو اور شروع میں اپنے علم کو بہت زیادہ نہ پھیلائے۔یہ بعد کی باتیں ہیں۔فی الحال تو سب سے قوی دلیل وفات مسیح کی ہے۔سب سے عمدہ تشریح قرآن کریم کی آیت خاتم النبیین کی ہے اور اسی طرح دیگر مسائل مثلاً صداقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے موضوع پر ایک ایک دلیل کو چنیں اور اس پر عبور حاصل کریں۔ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کا تیسرا پہلو یہ ہو کہ جب مناظرہ شروع ہو، گفتگو شروع ہو تو تمہارا یہ کام نہیں ہے اور تمہاری گفتگو کا یہ مقصد نہیں ہے کہ تم دوسرے کو نیچا دکھاؤ اور اس کی تذلیل کرو 587