نُورِ ہدایت — Page 433
ذریعہ سے، مال کے ذریعہ سے، اور بہت سارے ذرائع ہیں۔تو ہر صورت میں ایک مومن کو خدا تعالیٰ کی پناہ کی تلاش کرتے رہنا چاہئے اور ہر دو قسم کے ابتلاؤں سے بچنے کے لئے یہ دعا سکھلائی کہ یہ دعا مانگو کہ وَاعْفُ عَنَّا کہ اگر اراد یا غیر ارادی طور پر بھی ہم نے وہ کام نہیں کئے جو ہمیں کرنے چاہئے تھے اور اس کے نتیجہ میں ابتلاء آیا ہے تو ہم التجا کرتے ہیں کہ ہماری پردہ پوشی فرماتے ہوئے ہمیں معاف فرما اور ہمیں اس کے بداثرات سے بچالے۔پھر فرمایا کہ یہ دعا کرو کہ وَاغْفِرْ لَنَا ہمیں بخش دے۔غفر کے معنی ڈھانکنے کے بھی ہیں اور اس طرح معاملے کو درست کرنے اور اصلاح کرنے کے بھی ہیں اور مٹا دینے کے بھی ہیں۔گویا یہ دعا ہے کہ اے اللہ ! ہمارے تمام ایسے کام جو تیرے نزدیک غلط ہیں ہماری خطا معاف کرتے ہوئے ان کے بداثرات کو مٹا دے اور انہیں ختم کر دے اور آئندہ ہمیں اپنے معاملے درست رکھنے اور ہمیشہ اصلاح کی طرف مائل رہنے کی توفیق بھی عطا فرما تا کہ ہماری خطائیں کبھی تیری ناراضگی مول لینے والی نہ بنیں۔پھر فرمایا یہ دعا کرو وارحمنا ہم پر رحم کر یعنی ہمارے سے نرمی اور مہر بانی کا سلوک رکھ محض اور محض اپنے رحم کی وجہ سے ہماری غلطیوں کو معاف فرما اور نہ صرف معاف فرما بلکہ تیرے رحم کا تقاضا ہے کہ اس معافی کے ساتھ ہمیں آئندہ غلطیوں سے بچنے اور اپنی رضا کے حصول کی توفیق بھی عطا فرما، ایسے کام کرنے کی توفیق عطا فرما جو تیری رضا حاصل کرنے والے ہوں تا کہ ہم ہمیشہ ان لوگوں میں شمار ہوں جن پر تیرے پیار کی نظر پڑتی رہتی ہے اور ان غلطیوں کی وجہ سے ہماری ترقی کی رفتار کبھی کم نہ ہو اور نہ کبھی ہماری غلطیوں کی وجہ سے ہماری ترقی رکے۔انت مؤلنا تو ہمارا آقا اور مولا ہے اور تیرے علاوہ کوئی نہیں جو ہمارے سے عفو کا سلوک کرے۔مغفرت کا سلوک کرے۔رحم کا سلوک کرے۔یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو اپنے بندوں سے ایک انتہا تک عفو اور مغفرت اور رحم کو لے جاتی ہے۔ہماری ذاتی کمزوریوں سے بھی جماعت پر اثر نہ آئے کیونکہ بعض دفعہ ذاتی کمزوریوں کی وجہ سے بھی لوگ جماعت پر انگلی اٹھا رہے ہوتے ہیں اور جماعتی کمزوریاں بھی بعض دفعہ ہو جاتی ہیں۔عہد یداروں کی طرف سے 433