نُورِ ہدایت — Page 434
بھی ہو جاتی ہیں تو لوگوں کو جماعت پر انگلی اٹھانے کا کبھی موقع نہ دیں اور جب ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ ہم الہی جماعت ہیں اور ہماری کمزوریوں کی وجہ سے دنیا کو انگلی اٹھانے کا موقع ملے تو پھر دنیا یہ کہے گی کہ ان لوگوں کے یہ عمل ہیں اور ان کی وجہ سے خدا تعالیٰ ان کو پکڑ رہا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہم پر رحم نہ کیا۔ہم سے مغفرت کا سلوک نہ کیا اور سزا دی تو دنیا تو پھر یقینا یہی کہے گی کہ ان کے عمل کی وجہ سے خدا تعالیٰ ان کو پکڑ رہا ہے اور اس دنیا میں ہمیں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگنی چاہئے کہ اگر یہ ہو گا تو پھر اس سے دنیا میں تیرا پیغام پہنچانے میں روک پیدا ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو جماعت ہے اس کے سپرد تیرا یہ پیغام دنیا میں پہنچانے کا جو بھی کام کیا گیا ہے اس میں پھر روک پیدا ہوگی۔پس تجھ سے بھیک مانگتے ہیں کہ اے ہمارے مولیٰ ! ہم سے سختی کا سلوک نہ کر۔ہماری غلطیوں پر ہماری اصلاح کرتا رہ اور ہمیں سیدھے راستے پر چلاتا رہ۔اور فَانُصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِین کافروں کے خلاف بھی ہمیشہ ہماری مدد کرتا رہ اور ان پر ہمیں غلبہ عطا فرما۔ہم تو کمزور ہیں یہ غلبہ تیرے فضل اور ہم پر تیری خاص نظر سے ہونا ہے۔اس لئے ہمیں انفرادی طور پر بھی اور من حیث الجماعت بھی اُن لوگوں میں شامل رکھ جو تیرے خاص انعام اور پیار کے ہمیشہ مورد بنے رہتے ہیں۔اپنے فضل سے ایک امتیاز ہم میں اور ہمارے غیر میں پیدا کر دے تاکہ ہمارے ماڈی معاملات بھی اور ہمارے روحانی معاملات بھی تیر اتقویٰ اور تیرا خوف دل میں لئے ہوئے انجام پانے والے ہوں تا کہ جس مقصد کے لئے ہم نے حضرت مسیح موعود کو قبول کیا ہے وہ مقصد حاصل کرنے والے بن سکیں۔جب یہ سوچ لے کر ہم آخری دو آیات کو پڑھیں گے تو ہمارا قبلہ بھی پھر صحیح رخ پر رہے گا اور ہم ان آیات کی برکات سے فیض پانے والے ہوں گے۔ورنہ صرف الفاظ کو پڑھ لینا تو کوئی فائدہ نہیں دیتا۔نہ ہی یہ کافی ہو سکتا ہے۔بے شک قرآنی الفاظ میں برکت ہے لیکن یہ برکت نیک دل کوملتی ہے۔اگر دل میں نیکی نہیں تو جس طرح نما زمیں بعض نمازیوں کے منہ پر ماری جاتی ہیں اسی طرح اس قرآن پڑھنے والے کو جھوٹا کر کے اس کے اوپر الٹا دیا جائے گا۔یہ آیات اس لئے کافی ہیں کہ انسان کا ایک مکمل جائزہ اپنے سامنے آجاتا ہے جیسا کہ 434