نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 432 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 432

کرنے کے لئے تیری مدد کی ضرورت ہے۔کبھی ایسا وقت نہ آئے کہ ہماری شامت اعمال ہمیں تجھ سے دور لے جائے۔کبھی ایسا وقت نہ آئے کہ ہم تیرے احکامات پر عمل کرنے والے نہ ہوں۔یہ تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا بوجھ انسان پر نہیں ڈالتا جو اس کی طاقت اور وسعت سے باہر ہو۔پس انسان کی کمزوریاں ہی اسے ان نیکیوں سے دور لے جاتی ہیں جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔تو اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ہے کہ ہم نے جو تیرے سے عہد کئے ہیں وہ ہم کبھی نہ توڑیں۔جس طرح پہلے لوگوں نے توڑے اور پھر ان کو سزا کا سامنا کرنا پڑا۔اضر کہ معنی کئی ہیں جن میں سے ایک عہد اور معاہدہ بھی ہے۔اس لئے اس حوالے سے میں نے یہ بات کی ہے۔اس کے علاوہ اور بھی کئی معنی ہیں مثلاً بہت مشکل قسم کا معاہدہ، بہت بڑی ذمہ داری جس کے نہ کرنے سے پھر سزا ملے، کوئی گناہ یا جرم۔اس لحاظ سے ایک مومن دعا مانگتا ہے کہ پہلے لوگ اپنے وعدے پورے نہ کر سکے اور وہ وعدے پورے نہ کر کے، معاہدوں پر عمل نہ کر کے، احکامات پر عمل نہ کر کے تیری سزا کے مورد بنے۔اے اللہ تعالیٰ ! تو ہمیں ایسے اعمال سے بچانا۔پھر فرمایا کہ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِه کہ اے اللہ ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈالنا جس کی ہم میں طاقت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ بعض دفعہ دنیا وی امتحانوں کے ذریعہ سے بھی بندوں کو آزماتا ہے۔تو یہاں اس حوالے سے بھی دعا ہے کہ اللہ تعالی کسی بھی قسم کے دنیاوی امتحان اور ابتلاء سے ہمیں بچائے ایسا نہ ہو کہ کوئی بھی امتحان ہماری طاقت سے باہر ہو۔اصل میں تو مومن کو ہمیشہ روحانی ابتلاؤں کے ساتھ دنیاوی امتحانوں سے بھی بچنے کی دعا مانگتے رہنا چاہئے۔یہ نہیں کہ جب حالات اچھے ہوں تو یاد خدا نہ رہے۔لیکن اللہ تعالیٰ بعض اوقات دنیاوی لحاظ سے بھی مومنوں کو آزماتا ہے تو ایک مومن اس دعا کو ہمیشہ سامنے رکھتا ہے کہ میرا امتحان کسی بھی طرح میری طاقت سے بڑھ کر نہ ہو۔کیونکہ بعض دفعہ دنیاوی امتحانوں کی وجہ سے روحانی ابتلاء بھی آ جاتے ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ نے کسی قسم کا دنیاوی امتحان لینا بھی ہے تو اتنی طاقت بھی عطا فرمائے کہ میں اسے برداشت کر سکوں۔کئی طریق سے اللہ تعالیٰ آزماتا ہے۔اولاد کے 432