نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 403 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 403

طور پر پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام ایسے نہیں جن کی بجا آوری کوئی کر ہی نہ سکے۔اور نہ شرائع واحکام خدائے تعالیٰ نے دنیا میں اس لئے نازل کئے کہ اپنی بڑی فصاحت و بلاغت اور ایجادی قانونی طاقت اور چیستان طرازی کا فخر انسان پر ظاہر کرے اور یوں پہلے ہی سے اپنی جگہ ٹھان رکھا تھا کہ کہاں بیہودہ ضعیف انسان؟ اور کہاں کا ان حکموں پر عمل درآمد؟ خدا تعالیٰ اس سے برتر اور پاک ہے کہ ایسا لغو فعل کرے۔رپورٹ جلسہ سالانہ 1897 صفحہ 70،69) شرائط پر پابند ہونا باعتبار استطاعت ہے۔لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔( مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 81 مکتوب 49 بنام حضرت خلیفہ امسیح الاول ) ہم قرآن شریف ہی کی تعلیم دینے کو آئے ہیں۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف تو اس لئے بھیجا ہے کہ اس پر عمل کیا جاوے اس میں کہیں نہیں لکھا کہ خدا کسی کو مجبور کرتا ہے۔الحکم جلد 5 نمبر 29 مورخہ 10 را گست 1901 ، صفحہ 7) قابلیت فراست سے ظاہر ہوتی ہے۔خدا نے کچھ چھپایا ہے اور کچھ ظاہر کیا ہے۔اگر بالکل ظاہر کرتا تو ایمان کا ثواب جاتا رہتا اور اگر بالکل چھپاتا تو سارے مذاہب تاریکی میں دبے رہتے اور کوئی بات قابل اطمینان نہ ہوسکتی اور آج کوئی مذہب والا دوسرے کو نہ کہہ سکتا کہ توغلطی پر ہے۔اور نہ مواخذہ کا اصول قائم رہ سکتا تھا کیونکہ یہ تکلیف مالائیطاق تھی۔مگر خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے : لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا الحکم جلد 6 نمبر 9 مورخہ 10 / مارچ 1902 ، صفحہ 5) جو نبی آتا ہے اس کی نبوت اور وحی و الہام کے سمجھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی فطرت میں ایک ودیعت رکھی ہوئی ہے اور وہ ودیعت خواب ہے اگر کسی کو کوئی خواب سچی کبھی نہ آئی ہو تو وہ کیوں کر مان سکتا ہے کہ الہام اور وحی بھی کوئی چیز ہے؟ اور چونکہ خدا تعالیٰ کی یہ صفت ہے کہ لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔اس لئے یہ مادہ اُس نے سب میں رکھ دیا ہے۔الحکم جلد 6 نمبر 31 مؤرخہ 31 اگست 1902 صفحه 6) 403