نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 404 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 404

شریعت کا مدار نرمی پر ہے سختی پر نہیں ہے : لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا الحکم جلد 6 نمبر 37 مورخہ 17 / اکتوبر 1902 ، صفحہ 8) حواس باطنی میں جس طرح اس وقت فرق آ جاتا ہے، حواس ظاہری میں بھی معمر ہو کر بہت کچھ فتور پیدا ہو جاتا ہے۔بعض اندھے ہو جاتے ہیں بہرہ ہو جاتے ہیں چلنے پھرنے سے عاری ہو جاتے ہیں اور قسم قسم کی مصیبتوں اور دکھوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔غرض یہ زمانہ بھی بڑا ہی رڈی زمانہ ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی زمانہ ہے جو ان دونوں کے بیچ کا زمانہ ہے۔یعنی شباب کا جب انسان کوئی کام کر سکتا ہے کیونکہ اس وقت قویٰ میں نشو ونما ہوتا ہے اور طاقتیں آتی ہیں۔لیکن یہی زمانہ ہے جبکہ نفس آتارہ ساتھ ہوتا ہے اور وہ اس پر مختلف رنگوں میں حملے کرتا ہے اور اپنے زیر اثر رکھنا چاہتا ہے۔یہی زمانہ ہے جو مؤاخذہ کا زمانہ ہے۔اور خاتمہ بالخیر کے لئے کچھ کرنے کے دن بھی یہی ہیں لیکن ایسی آفتوں میں گھرا ہوا ہے کہ اگر بڑی سعی نہ کی جاوے تو یہی زمانہ ہے جو جہنم میں لے جائے گا اور شقی بنادے گا۔ہاں ! اگر عمدگی اور ہوشیاری اور پوری احتیاط کے ساتھ اس زمانہ کو بسر کیا جاوے تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے امید ہے کہ خاتمہ بالخیر ہو جاوے کیونکہ ابتدائی زمانہ تو بے خبری اور غفلت کا زمانہ ہے اللہ تعالیٰ اس کا مواخذہ نہ کرے گا جیسا کہ خود اس نے فرمایا: لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا - الحکم جلد 9 نمبر 1 مورخہ 10 جنوری 1905 ، صفحہ 3) قرآن شریف میں لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا آیا ہے اور رہبانیت اسلام میں نہیں ہے۔جس میں پڑ کر انسان اپنا ہاتھ سکھا لے یا اپنی دوسری قوتوں کو بیکار چھوڑ دے یا اور قسم قسم کی تکالیف شدیدہ میں اپنی جان کو ڈالے۔عبادت کے لئے دکھ اٹھانے سے ہمیشہ یہ مراد ہوتی ہے کہ انسان ان کاموں سے رُکے جو عبادت کی لذت کو دُور کرنے والے ہیں۔اور ان سے رُکنے میں اولاً ایسی ضرور تکلیف محسوس ہوگی اور خدا تعالیٰ کی نارضامندیوں سے پر ہیز کرے۔مثلاً ایک چور ہے اس کو ضروری ہے کہ وہ چوری چھوڑے، بدکار ہے تو بدکاری اور بدنظری چھوڑے۔اسی طرح نشوں کا عادی ہے تو اُن سے پر ہیز کرے۔اب جب وہ اپنی 404