نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 366 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 366

اوقات جماعتی ترقی کا باعث بنتے ہیں۔اسلام کی ابتدا میں جب مکہ میں آزادی سے تبلیغ نہیں کی جاسکتی تھی اور مسلمان بڑی سخت مظلومیت کی زندگی گزار رہے تھے۔اس زمانہ میں جب مسلمانوں نے قربانیاں دیں تو کیا وہ قربانیاں رائیگاں گئیں؟ جو مسلمان اس وقت ظلموں کا نشانہ بنائے گئے کیا وہ بے فائدہ تھے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔اس وقت بھی جب وہ مٹھی بھر مسلمان تھے، ان کی ہر قربانی ان کے ایمانوں میں مضبوطی پیدا کرنے والی بنتی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ جماعتی ترقی کا بھی باعث بنتی چلی جاتی تھی۔اس سے تبلیغ نہیں رک گئی۔مسلمان ہونا یا اسلام میں شامل ہونا اس سے رک نہیں گیا۔ظلموں کے باوجود ترقی پر قدم پڑتے چلے گئے۔پھر ان ظلموں کی وجہ سے ہجرت کرنی پڑی تو ہجرت کرنے پر اللہ تعالیٰ نے مزید ترقی کے دروازے کھولے۔عددی لحاظ سے بھی اور مالی لحاظ سے بھی مسلمان بڑھتے چلے گئے کہ وہی کفار مکہ جو ظلم کرنے والے تھے وہ مسلمانوں کے زیرنگیں ہو گئے۔جماعت احمدیہ کی تاریخ بھی دیکھ لیں۔ہر ابتلا اور امتحان جہاں جماعت کی روحانی ترقی کا باعث بنتا ہے اور بنا ہے وہاں مادی اور جسمانی ترقی کا بھی باعث بنا ہے۔1974ء کے حالات نہ ہوتے تو ایک حصہ جو ملک سے باہر نکل کر پھیلا ، وہ نہ نکل سکتا۔کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والا تھا۔کوئی معمولی زمیندارہ کرنے والا تھا۔کوئی معمولی ملازمت کرنے والا تھا۔بچوں کی تعلیم کے وسائل بھی بعض کو ٹھیک طرح میسر نہیں تھے۔یا وسائل تھے تو ماحول نہیں تھا۔یورپ میں آ کر کئی بچے جو ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی کر رہے ہیں یا انہوں نے کی ہے یا ڈاکٹر بنے ہیں، انجینئر بنے ہیں پاکستان میں انہیں کے عزیز اتنی تعلیم نہیں حاصل کر سکے یا رجحان نہیں ہوا یا وسائل نہیں تھے۔پس یہ بات باہر آئے ہوئے ہر احمدی کو ذہن میں پیدا کرنی چاہئے کہ جہاں ان کے ایمان کی وجہ سے انہیں ملک سے نکلنا پڑا تو خدا تعالیٰ نے انہیں بہتر حالات مہیا فرمائے اور مالی کشائش کی صورت میں ان کے معیار بدل گئے۔بچوں کی اچھی تعلیم کے لئے ماحول بھی پیدا فرمایا اور من حیث الجماعت جماعت نے مالی لحاظ سے بھی اور 366