نُورِ ہدایت — Page 365
طرف نکالتے ہیں۔یہی لوگ آگ والے ہیں وہ اس میں لمبا عرصہ رہنے والے ہیں۔پس حقیقت یہی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں کا دوست بنتا ہے یعنی ایسا ایمان جس میں دنیا کی ملونی نہ ہو۔ایمان لانے کے بعد وہ اللہ کے نور کی تلاش میں مزید ترقی کی طرف قدم بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔انہیں پھر اللہ تعالیٰ کامیابیاں عطا فرماتا ہے۔یہاں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالنے کا مطلب ہے کہ روحانی اور جسمانی کمزوریوں سے روحانی اور جسمانی ترقی اور مضبوطی کی طرف لے جانا۔پس اللہ تعالیٰ اعلان فرما رہا ہے کہ جو ایمان لائے اللہ تعالیٰ انہیں انفرادی طور پر بھی اور جماعتی طور پر بھی روحانی اور جسمانی کامیابیاں عطا فرمائے گا اور ان کو تکلیفوں اور پریشانیوں سے نجات دے گا۔مگر شرط ایمان لانا اور اس میں ترقی کرنا ہے اور یہ ترقی اللہ تعالیٰ کے احکامات کو پڑھنے، سمجھنے اور ان پر عمل کرنے سے ہوتی ہے اور جو اس طرح عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کا ولی ہو جاتا ہے۔کوئی مخالف، کوئی دشمن، کوئی دنیا کی حکومت ایسے لوگوں کو ختم نہیں کر سکتی۔لیکن یہاں یہ بات بھی واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومنوں پر مشکلات بھی آتی ہیں، مصیبتیں بھی آتی ہیں۔جان، مال اور اولاد کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔اگر یہ سب کچھ ہے تو پھر یہ کہنا کہ جسمانی مشکلات سے بھی نکالتا ہے، اس کا کیا مطلب ہوا؟ اندھیروں سے روشنی کی طرف لے جانے کا یہ تو مطلب لیا جا سکتا ہے کہ ایمان لانے والوں کے روحانی ترقی میں قدم آگے بڑھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا دوست ہو کر ان لوگوں کو روحانیت میں ترقی دیتا چلا جاتا ہے اور پھر آخرت میں جیسا کہ اس نے وعدہ فرمایا ہے اجر سے نوازے گا۔لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ مومن جب اللہ تعالیٰ پر پختہ ایمان لاتا ہے تو صرف اپنی ذات کا مفاد اور ذاتی تکالیف اس کے پیش نظر نہیں ہوتیں بلکہ وہ جماعتی زندگی کی طرف دیکھتا ہے۔بے شک ایک مومن کو ذاتی طور پر جسمانی اور مادی اور اقتصادی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔لیکن یہ انفرادی نقصانات بھی اگر وہ دین کی خاطر ہو رہے ہوں تو اکثر 365