نُورِ ہدایت — Page 367
عددی لحاظ سے بھی ترقی کی۔اسی طرح جب انفرادی طور پر تعلیمی میدان میں آگے قدم بڑھے تو جماعت کے اندر بھی دنیاوی تعلیم کا معیار بھی بہت بلند ہوا اور یہ چیز ہر احمدی کو خدا تعالیٰ کے مزید قریب کرنے والی ہونی چاہئے اور ایمان میں ترقی کا باعث بنانے والی ہونی چاہئے۔نہ کہ اس چیز سے کسی قسم کا تکبر یا فخر یا رعونت پیدا ہو جائے۔اللہ تعالیٰ نے تو اپنے ولی ہونے کا اظہار فرما دیا۔ہم نے بھی حقیقی عبد بنتے ہوئے حقیقی عبد بننے کا نمونہ دکھانا ہے اور پھر یہ چیز ہمیں مزید روشنیاں دکھانے والی بنتی چلی جائے گی اور پھر صرف باہر آنے والوں میں ہی ترقی نہیں ہوئی بلکہ ان ظلموں کی وجہ سے جو 1974ء میں پاکستان میں ہوئے پاکستان میں رہنے والوں پر بھی اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔جن کے کاروبار تباہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی اللہ تعالیٰ نے پھر ان کے کاروباروں میں ترقیاں دیں جیسا کہ ہم نے ولی کے معنوں میں دیکھا ہے۔ولی دوست اور مددگار کو بھی کہتے ہیں۔پس جس نے احمدیت کی خاطر قربانی دی اللہ تعالیٰ نے اسے یا اس کی نسل کو حقیقی دوست اور مددگار بنتے ہوئے ترقیات سے نوازا۔پھر دیکھیں 1984ء میں جب جماعت پر زمین تنگ کی گئی یا تنگ کرنے کی کوشش کی گئی اور خلیفہ وقت کو وہاں سے ہجرت کرنی پڑی۔تو پھر کون کام آیا ؟ وہی ولی دوست اور مددگار جو تمام اشیاء پر تصرف رکھنے والی ذات ہے۔اس وقت سفر کے دوران مختلف مواقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی ایسی حفاظت اور مدد فرمائی جو کوئی بھی دنیاوی دوست نہیں کر سکتا۔پھر اس بات نے جہاں افراد جماعت کے ایمانوں میں مضبوطی پیدا کی وہاں اس ہجرت کے نتیجہ میں جماعت کی عددی ترقی بھی ہوئی اور پھر ایم ٹی اے کی نعمت سے اللہ تعالی نے روحانی ترقی اور تبلیغ کے سامان بھی مہیا فرمائے۔ایک وقت میں دنیا میں ایک آواز سنی جاتی ہے جو تربیت اور تبلیغ کی طرف توجہ دلانے والی ہے۔پھر اس آیت میں جہاں ایمان میں ترقی کے ساتھ ساتھ جسمانی ترقی کا وعدہ کیا گیا ہے وہاں ایمان نہ لانے والوں کے بارے میں بتایا کہ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَتُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلمت اور جو لوگ کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ وہ 367