نُورِ ہدایت — Page 364
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خطبه جمعه فرموده 23 اکتوبر ایدہ 2009ء میں فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ولی ہے اور ولی کے تحت لغات میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔اس کا مطلب ہے مددگار۔بعض نے اس کے یہ معنی کئے ہیں کہ وہ ذات جو تمام عالم اور مخلوقات کے معاملات سر انجام دینے والی ہے جس کے ذریعہ سے وہ عالم قائم ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت الوالی ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ ذات جو تمام اشیاء کی مالک اور اُن پر تصرف رکھنے والی ہے۔ابن اثیر کہتے ہیں کہ ولایت کا حق تدبیر، قدرت اور فعل کے ساتھ منسلک ہے۔اور وہ ذات جس میں یہ امور مجتمع نہیں ہوں گے تو ان پر لفظ والی کا اطلاق نہیں ہوگا۔اور پھر لسان العرب میں یہ لکھا ہے۔الولی کا مطلب ہے دوست مددگار۔ابن الاعرابی کے مطابق اس سے مراد ایسا محب ہے جو اتباع کرنے والا ہو۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا ( سورۃ البقرہ کی آیت 258 ہے)۔ابو اسحق نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے بارہ میں کہ مومنوں کی حاجات اور ان کے لئے ہدایت اور ان کے لئے براہین کے قائم کرنے کے حوالے سے مددگار ہے۔کیونکہ وہی ہے جو انہیں ان کے ایمان کے لحاظ سے ہدایت میں بڑھاتا ہے، جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى (سورة محمد 18 ) اور اسی طرح وہ مومنوں کا ان کے دشمنوں کے خلاف مددگار ہے اور مومنوں کے دین کو ان کے مخالفین کے ادیان پر غلبہ دینے والا ہے۔سورۃ بقرہ کی آیت کا تھوڑا سا حصہ میں نے بتایا تھا ، یہ مکمل آیت اس طرح ہے اللہ ولی الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَهُهُمُ الطَّاغُوتُ۔يُخْرِجُونَهُم مِنَ النُّوْرِ إِلَى الظُّلُمتِ أُوْلَئِكَ أَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيْهَا خَلِدُوْنَ(البقرة 258) کہ اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے۔وہ ان کو اندھیروں سے نور کی طرف نکالتا ہے۔اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کے دوست شیطان ہیں۔وہ ان کو نور سے اندھیروں کی 364