نُورِ ہدایت — Page 363
پھر فرمایا وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْاَرْضَ کیونکہ اس کی بادشاہت زمین پر پھیلی ہوئی ہے اور آسمان پر پھیلی ہوئی ہے۔وہ تمام کائنات کی اور جتنی بھی کائناتیں ہیں ان میں موجود ہر چیز کو زندگی دینے والا اور قائم رکھنے والا ہے۔تمہارا علم محدود ہے۔وہی تمہیں علم دیتا ہے۔جس حد تک استعدادوں نے ترقی کی ہے یا کوشش کی ہے اس حد تک علم دیتا ہے۔لیکن یہ علم بھی صرف اس حد تک ہے جس حد تک خدا تعالیٰ چاہتا ہے۔اس لئے وہی اس بات کا حقدار ہے کہ اس کے آگے جھکو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو۔اسی کی حکومت زمین و آسمان تک پھیلی ہوئی ہے بلکہ اس نے اس کی حفاظت بھی اپنے ذمہ لی ہوئی ہے اور اس سے وہ تھکتا بھی نہیں۔ہر چیز پر اس کی نظر ہے اور یہ ایسا وسیع اور جامع نظام ہے کہ اس کا احاطہ انسان کے لئے ممکن نہیں ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم نظر دوڑاؤ کہ شاید اللہ تعالیٰ کی پیدائش میں کوئی نقص تلاش کر سکو لیکن ناکام ہو گے۔تمہاری نظر واپس آ جائے گی۔پھر نظر دوڑاؤ پھر وہ تھکی ہوئی واپس آ جائے گی۔لیکن خدا تعالیٰ وہ ذات ہے جو اس نظام کو چلا رہا ہے اور ازل سے چلا رہا ہے اور بغیر کسی اونگھ اور نیند کے اور بغیر کسی تھکاوٹ کے اسے چلا رہا ہے۔پس کیا یہ باتیں تمہیں اس طرف توجہ نہیں دلاتیں کہ اس وسعتوں والے خدا کے سامنے اپنی گردنیں جھکا دو اور سرکشی میں نہ بڑھو۔اور آخر میں فرما ی وَ هُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ کہ وہ بلندشان والا اور عظمت والا ہے۔اس سارے نظام کو چلانے کے لئے اسے کسی مددگار کی ضرورت نہیں ہے۔پس یہ خدا ہے جو اسلام کا خدا ہے۔تمام صفات کا مالک اور جامع ہے اور یقینا وہ اس بات کا حقدار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں وہ فہم و ادراک عطا فرمائے جس سے ہم اپنے اللہ کی پہچان کرتے ہوئے ہمیشہ اس کے سامنے جھکے رہنے والے، اس کی عبادت کرنے والے بنے رہیں اور اسے تمام صفات کا جامع سمجھتے ہوئے اس کی صفات کے کمال سے فیض اٹھانے والے بنے رہیں۔(خطبہ جمعہ حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی فرموده 5 جون 2009ء ، خطبات مسرور جلد ہفتم صفحه 254 تا 262) 5ر 2009ء،خطبات 254تا262) 363