نُورِ ہدایت — Page 300
اپنا سر دار سمجھتے ہیں اور شیطان کو بھی اپنا سردار سمجھتے ہیں اور جو خدا کا بندہ خدا کی صفت رحمانیت کا مظہر ہے وہ بھی ظلی طور پر رحمن ہے۔ہر انسان اپنے محدود دائرہ میں ظلمی طور پر اپنے اندر اللہ تعالی کی صفات کو منعکس کر کے رب بھی ہے رحمن بھی ہے رحیم بھی ہے اور مالک بھی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سورۃ فاتحہ کی تفسیر میں بیان فرمایا ہے کہ ہماری جماعت پر یہ فرض لازم ہے کہ دوست ان صفات باری تعالیٰ کو ظنی طور پر اپنے اندر بھی پیدا کریں۔پس ایک ایسا شخص جو رحمن اور شیطان میں فرق نہیں کر سکتا وہ بھلا عقلمند کیسے ہوسکتا ہے؟ منافق بے شک اپنے آپ کو عقلمند سمجھتے پھریں اللہ تعالیٰ کا ان کے متعلق فیصلہ یہ ہے کہ وہ پرلے درجے کے سفیہ بڑے ہی بیوقوف اور سخت احمق ہیں کیونکہ یہ تو رحمن اور شیطان میں بھی فرق نہیں کر سکتے۔یہ ان کی بیوقوفی اور حماقت کی دلیل نہیں تو اور کیا ہے اس دورنگی کو عقلمند کون کہہ سکتا ہے کہ جب اپنے شیطان سرداروں کے پاس جاتے ہیں تو ان کی وفاداری کا دم بھرتے ہیں لیکن مومنوں کے پاس آکر اسی زبان سے مومنانہ جذبات کا اظہار بھی کر رہے ہوتے ہیں اور بڑی چرب زبانی سے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم تو آپ کے ساتھ ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص خدائے رحمن اور شیطان ملعون میں فرق نہ کر سکے وہ سفیہ یعنی پرلے درجے کا بیوقوف نہیں تو اور کیا ہے۔لیکن اپنی سفاہت کا احساس نہ رکھنے کی وجہ سے یا محض شرارت کی نیت سے عقلمند کے روپ میں تمہارے سامنے آئیں گے۔بظاہر بڑے عقلمند بڑے مصلح نہایت ہمدرد اور پگے مومن۔لیکن در پردہ منافق ہوں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے جماعت مومنہ ! میں تم پر یہ اعتماد کر رہا ہوں اور تمہارے سامنے ان کی علامات کو کھول کھول کر اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ تم بھی ہمیشہ ایسے گروہ سے چوکس اور بیدار ہوجس طرح یہ لوگ مجھے بیوقوف نہیں بنا سکے اسی طرح یہ تمہیں بھی بیوقوف نہیں بنا سکتے۔(بقُدْرَتِهِ الْكَامِلَةِ ) پس اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ہر سہ جماعتوں کے متعلق ان کی خصوصیات، کیفیات اور علامات کو ظاہر فرما دیا ہے۔مومنوں کے لئے غیر محدود ترقیات کے دروازے کھولے۔منکرین اسلام کے متعلق فرمایا کہ جب تک ان کی یہی کیفیت رہے گی یہ ایمان لانے کی 300