نُورِ ہدایت — Page 301
سعادت سے محروم رہیں گے۔انہیں اس وقت تک ایمان کی توفیق نہیں مل سکتی جب تک اپنی اس بنیادی کمزوری کو دور نہ کریں کہ اپنے ہاتھوں سے انہوں نے جو غلط قسم کی مہریں اور پر دے اپنے دل، کان اور آنکھ پر ڈال لئے ہیں وہ ہٹا نہ دیں۔جب تک ان کی یہ حالت تبدیل نہیں ہوتی انہیں ڈرانا یانہ ڈرانا برابر ہے۔اس سے ہمیں بھی یہ بتانا مقصود ہے کہ تم بھی دیکھو کہ وہ مہریں کیسی ہیں ان کو کس طرح توڑا جا سکتا ہے تا کہ ایمان سے محروم اپنے ان بھائیوں کی خدمت کر سکو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا کہ وہ پر دے اس شکل کے ہیں، اس رنگ کے ہیں اور ان اثرات کے حامل ہیں لہذا تم ان پردوں کو ہٹا کر اپنے بھائیوں کو جو اس وقت تک ایمان کی دولت سے محروم ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کے نشان دیکھنے اور ان پر ایمان لانے کے قابل بنا سکتے ہو۔پھر اس گروہ کا ذکر فرمایا جو مومن ہونے کا لیبل لگا کر مومن ہی کے روپ میں اُمتِ مسلمہ میں گھسے رہتے ہیں اور اندر ہی اندر نفاق کا بیج بوتے ہوئے امت کے شیرازہ کو نقصان پہنچاتے رہتے ہیں۔ان آیات کے علاوہ بھی قرآن کریم نے کئی دوسری جگہ اس گروہ کی مختلف روحانی بیماریوں اور اس کی مفسدانہ کارروائیوں پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔لیکن یہاں ان آیات میں اس گروہ سے متعلق چند بنیادی علامات کو واضح کیا گیا ہے۔جہاں تک ان کی بیماریوں اور ان کے فتنوں کا تعلق ہے ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ جب بیماری کہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کا اس کی اپنی ذات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔لیکن جب فتنہ کہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ساری جماعت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔یوں دراصل ان کی بیماریاں اور ان کے فتنے ایک ہی تصویر کے دورخ ہیں۔پس قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے منافق کی بیماریوں، اس کے فتنوں وغیرہ کے متعلق اور پھر ان کا کس طرح ازالہ کیا جا سکتا ہے اس کے متعلق وضاحت سے بیان فرمایا ہے کہ اگر چہ ان بیماریوں کا علاج اللہ تعالیٰ ہی کر سکتا ہے لیکن چونکہ اس کے مومن بندے اس کی صفات کے مظہر ہوتے ہیں اس لئے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر ہونے کی حیثیت میں ان کی بیماریوں کے علاج میں کوشاں رہتے ہیں۔پس ان آیات میں منافقین کی بنیادی کمزوریوں کو بیان 301