نُورِ ہدایت — Page 299
رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ اپنے بندوں کو متنبہ کرتا ہے کہ دیکھو میرے فضل اور میری رحمت کے بغیر ایک پل بھر کے لئے بھی تمہاری زندگی، اس کی صحت اور بقا قائم نہیں رہ سکتی۔اگر میر افضل شامل حال نہ ہو تو میرے قہر کا ایک معمولی سا جلوہ تمہارے درخت وجود کو جلا کر خاکستر کر دے۔اس لئے اپنی حفاظت کے لئے میری پناہ میں آجاؤ اور میرے دامن سے اپنے آپ کو وابستہ کر لو۔پس مومن بندہ اس حقیقت سے آگاہ اور باخبر ہوتا ہے اور اسی لئے وہ ہمیشہ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز رہتا ہے۔لیکن جب ایک منافق سے یہ کہا جائے کہ اپنے رب سے بے نفس ایثار اور بچے خلوص کا تعلق قائم کرو اور اس کے لئے جس قربانی کا مطالبہ ہو اس کو پورا کرو تو وہ آگے سے کہہ دیتے ہیں کہ اس قسم کا ایمان تو دراصل ایک پاگل پن کی دلیل ہے۔ایک مجنونانہ فعل اور احمقانہ حرکت ہے۔ہم اتنے عقلمند ہو کر بھلا کیوں اس قسم کا ایمان لائیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان سے کہہ دو هُمُ السُّفَهَاءُ بیوقوف اور احمق تو دراصل تم ہی ہولیکن بیوقوف اور احمق ہونے کے علاوہ بڑے بد بخت بھی ہو کہ تمہیں اپنی بیوقوفی اور حماقت کا احساس بھی نہیں ہوتا۔وہ احمق جو اپنی حماقت کا احساس رکھتا ہے وہ خود بھی بہت سی تکلیفوں سے محفوظ رہتا ہے اور دوسرے بھی اس کے آزار سے بہت حد تک محفوظ رہتے ہیں کیونکہ اسے یہ احساس ہوجاتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اتنا دماغ نہیں دیا جتنا دوسروں کو دیا گیا ہے۔لیکن جو شخص اپنی حماقت کا احساس نہیں رکھتا وہ ہر وقت معرض خطرہ میں رہتا ہے اور نقصان سے دو چار رہتا ہے۔اسی واسطے دانشمندوں کا یہ قول ہے کہ ایک بیوقوف دوست کی نسبت ہزار عقلمند دشمن اچھے ہوتے ہیں کیونکہ بسا اوقات ہزار عقلمند دشمن کسی کو وہ نقصان نہیں پہنچا سکتے جو ایک بیوقوف دوست کے ہاتھوں اسے اُٹھانا پڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان سے کہہ دو کہ میری نگاہ میں اور میری صفات سے متصف میرے بندوں کی نگاہ میں بھی بیوقوف تم ہی ہو، خواہ تم کتنے ہی عقلمند کیوں نہ بنے پھرو۔پس منافقین کی یہ بنیادی علامات ہیں جن کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے۔جیسا کہ میں نے ابھی اشارہ کیا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ اپنی منافقت کو عقلمندی سمجھتے ہیں خدائے رحمن کو بھی 299