نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 266 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 266

کے اعتراض شروع کر دیتی ہے۔چنانچہ اسلام کی ابتدا میں تو یہ اعتراض کیا گیا کہ مسلمان تو بے وقوف ہیں۔اپنے مالوں اور اپنی جانوں کو ضائع کر رہے ہیں۔اور ایسے طور پر خرچ کر رہے ہیں کہ نتیجہ کچھ نہ نکلے گا۔یونہی اپنے مذہب کے جھوٹے وعدوں کے دھوکے میں آگئے ہیں۔مگر جب اسلام کو غلبہ مل گیا تو اب ان کی اولاد یا اُن کے اظلال یہ کہہ رہے ہیں کہ اسلام کی ترقی کوئی معجزانہ ترقی نہ تھی۔عربوں اور ایرانیوں اور رومیوں کے اخلاق تباہ ہو گئے تھے اور ان میں قوم کی خاطر قربانی کرنے کا جذبہ نہ رہا تھا اس لئے مسلمان غالب آ گئے۔سچ ہے جب انسان سچائی کو چھوڑتا ہے تو کسی ایک مقام پر کھڑا نہیں ہوسکتا۔اسے بار بار اپنی جگہ بدلنی پڑتی ہے۔بھلا کوئی سوچے کہ اگر مسلمانوں کے اندر ایسی ہی کوئی غیر معمولی طاقت موجود تھی اور ان کے مد مقابل ایسے ہی کمزور تھے تو اندرونی منافق اور بیرونی دشمن ان کی قربانیوں کو اسراف اور ان کے ارادوں کو جنون کیوں قرار دے رہے تھے۔باقی رہا یہ کہ بعض اسباب ان کی تائید میں پیدا ہو گئے تو یہ معجزانہ غلبہ کے خلاف نہیں۔اللہ تعالیٰ جب کوئی خبر دیتا ہے تو اس کی تائید میں سامان بھی پیدا کر دیتا ہے۔مگر وہ سامان مومنوں کی کوشش کا نتیجہ نہیں ہوتے۔آخر عربوں ، ایرانیوں اور رومیوں کو سچی قربانیوں سے مسلمانوں نے تو محروم نہ کیا تھا۔پھر یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ دونوں فریق کی طاقت کی باہمی نسبت کیا تھی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عربوں رومیوں اور ایرانیوں سے سچی قربانی کی روح چھین لی۔مگر جس حد تک انہوں نے طاقت خرچ کی مسلمانوں میں تو اس کے مقابلہ کی بھی ظاہر حالات میں طاقت تھی پھر وہ کیونکر غالب آئے۔آخر آیت میں فرمایا کہ اصل میں یہی لوگ اپنے اموال اور جانوں کا نقصان کر رہے ہیں۔کیونکہ نہ کفار نے فتح پانی ہے کہ ان کے ساتھ تعلق ان کے لئے مفید ثابت ہو اور نہ مسلمانوں نے ہارنا ہے کہ ان سے بگاڑا نہیں فائدہ پہنچا سکے لیکن چونکہ یہ آئندہ کی بات ہے۔یہ جانتے نہیں۔اور خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں کہ اس کی پیشگوئیوں کے ذریعہ سے اس حقیقت کو سمجھ سکیں۔266