نُورِ ہدایت — Page 247
وجود معرض وجود میں آچکا ہو۔جس کا وجود معرض وجود میں نہ آیا ہو بلکہ آئندہ آنے والا ہو اس کی نسبت یقین کا لفظ ہی زیادہ مناسب ہوتا ہے۔اگر کہا جائے کہ حیات بعد الموت کے متعلق بھی تو ایمان کا لفظ آتا ہے حالانکہ وہ بعد میں آنے والی شے ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ حیات بعد الموت بیشک ایک زندہ شخص کے لئے تو بعد میں آنے والی شے ہے مگر اس کا وجود اس وقت بھی موجود ہے۔اور جولوگ مر چکے ہیں وہ معا ایک قسم کی زندگی پارہے ہیں۔پس یہ خدائی فعل پہلے بھی ظاہر ہوتا رہا ہے، اب بھی ہو رہا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔پس حیات بعد الموت در حقیقت ایک ایسی چیز ہے جو ہر وقت ہورہی ہے اس لئے اس کی نسبت ایمان کا لفظ ہی زیادہ مناسب ہے۔مگر جو وحی آئندہ نازل ہونے والی ہو اس کی نسبت یقین کا لفظ زیادہ مناسب ہے۔اگر پہلی وحیوں کی نسبت سے وحی کا ذکر نہ کیا جائے بلکہ صرف یہ کہا جائے کہ مومن اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ وحی خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی ہے تو اس موقعہ پر چونکہ مخصوص طور پر آئندہ وحی کا ذکر نہ ہوگا اس کے لئے ایمان کا لفظ زیادہ مناسب ہوگا۔اصل بات یہ ہے کہ وحی الہی ہر شخص پر نہیں اترتی بلکہ بعض ترقی یافتہ اور مقرب وجودوں پر اُترتی ہے اور قومی لحاظ سے متقیوں کا فرض مقرر کیا گیا ہے کہ وہ اس امر پر یقین رکھیں کہ اللہ تعالی آئندہ بھی ان کو بھلائے گا نہیں بلکہ ان میں سے کامل وجودوں پر وحی نازل ہوتی رہے گی۔اور اس طرح ہر مسلمان کے دل میں یہ خواہش پیدا کی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایسا اعلی درجہ کا متقی بنائے کہ اس پر خدا تعالیٰ کی وحی نازل ہو اور اس طرح اعلیٰ امید پیدا کر کے اور اعلیٰ مقصد کو سامنے لا کر مسلمانوں کا مطمح نظر اونچا کردیا گیا ہے۔بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ وحی مذکر ہے اور آخرۃ مؤنث کا صیغہ ہے پھر اس سے وحی کی طرف کس طرح اشارہ ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ وحی کا لفظ نہیں ما اُنْزِل کے الفاظ ہیں اور ان کی تعبیر کسی 247