نُورِ ہدایت — Page 171
مراتب کو پالیتا ہے جو ھدی للمتقین میں مقصود رکھے ہیں قرآن شریف کی اس علت غائی کے تصور سے ایسی لذت اور سرور آتا ہے کہ الفاظ میں ہم اس کو بیان نہیں کر سکتے کیونکہ اس سے خدا تعالیٰ کے خاص فضل اور قرآن مجید کے کمال کا پتہ لگتا ہے۔پھر متقی کی ایک اور علامت بیان فرمائی و مما رَزَقُتُهُمْ يُنْفِقُونَ یعنی جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔یہ ابتدائی حالت ہوتی ہے اور اس میں سب کے سب شریک ہیں کیونکہ عام طور پر یہ فطرت انسانی کا ایک تقاضا ہے کہ اگر کوئی سائل اس کے پاس آجاوے تو کچھ نہ کچھ اسے ضرور دے دیتا ہے گھر میں دس روٹیاں موجود ہوں اور کسی سائل نے آ کر صدا کی تو ایک روٹی اس کو بھی دے دے گا یہ امر زیر ہدایت نہیں ہے بلکہ فطرت کا ایک طبعی خاصہ ہے۔اور یہ بھی یادر ہے کہ یہاں مما رَزَقُنُهُمْ يُنْفِقُونَ عام ہے اس سے کوئی خاص ثے روپیہ پیسہ یا روٹی کپڑا مراد نہیں ہے بلکہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ خرچ کرتے رہتے ہیں۔انفاق دو قسم کا ہوتا ہے ایک فطرتی دوسرازیر اثر نبوت۔فطرتی تو وہی ہے جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ تم میں سے کون ہے اگر کوئی قیدی یا بھوکا آدمی جو کئی روز سے بھوکا ہو یاننگا ہو ، آ کر سوال کرے اور تم اسے کچھ نہ کچھ دے نہ دو۔کیونکہ یہ امر فطرت میں داخل ہے اور یہ بھی میں نے بتادیا ہے کہ بنا رزقنهم روپیہ پیسہ سے مخصوص نہیں خواہ جسمانی ہو یا علمی سب مِمَّا رَزَقُلهُمْ اس میں داخل ہے۔جو علم سے دیتا ہے وہ بھی اسی کے ماتحت ہے، مال سے دیتا ہے وہ بھی داخل ہے، طبیب ہے وہ بھی داخل ہے مگر بموجب منشاء هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ابھی تک اس مقام تک نہیں پہنچا جہاں قرآن شریف اسے لے جانا چاہتا ہے اور وہ وہ مقام ہے کہ انسان اپنی زندگی ہی خدا تعالیٰ کے لئے وقف کر دے اور یہ یہی وقف کہلاتا ہے۔اس حالت اور مقام پر جب ایک شخص پہنچتا ہے تو اس میں بھکا رہتا ہی نہیں کیونکہ جب تک وہ مینا کی حد کے اندر ہے اس وقت تک وہ ناقص ہے اور اس علت غائی تک نہیں پہنچا جو قرآن مجید کی ہے لیکن کامل اسی وقت ہوتا ہے جب یہ حد نہ رہے اور اس کا وجود اس کا ہر فعل ہر۔171