نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 170 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 170

لذت اُٹھاتے ہیں۔اس سے بہت بڑھ چڑھ کر وہ مومن مشتقی نماز میں لذت پاتا ہے۔اس لئے نماز کو خوب سنوار سنوار کر پڑھنا چاہئے۔نما ز ساری ترقیوں کی جڑ اور زمینہ ہے۔اسی لئے کہا گیا ہے کہ نماز مومن کا معراج ہے اس دین میں ہزاروں لاکھوں اولیاء اللہ، راست باز، ابدال، قطب گزرے ہیں۔انہوں نے یہ مدارج اور مراتب کیوں کر حاصل کئے؟ اسی نماز کے ذریعہ سے۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں وَقُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلوۃ یعنی میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے اور فی الحقیقت جب انسان اس مقام اور درجہ پر پہنچتا ہے تو اس کے لئے اکمل اتم لذت نماز ہی ہوتی ہے اور یہی معنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے ہیں۔پس کشاکش نفس سے انسان نجات پا کر اعلی مقام پر پہنچ جاتا ہے۔غرض یاد رکھو کہ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ وہ ابتدائی درجہ اور مرحلہ ہے جہاں نماز بے ذوقی اور کشاکش سے ادا کرتا ہے لیکن اس کتاب کی ہدایت ایسے آدمی کے لئے یہ ہے کہ اس مرحلہ سے نجات پاکر اس مقام پر جا پہنچتا ہے جہاں نما ز اس کے لئے قرۃ العین ہو جاوے۔قرآن شریف کو جہاں سے شروع کیا ہے ان ترقیوں کا وعدہ کر لیا ہے جو بالطبع روح تقاضا کرتی ہے۔چنانچہ سورۃ فاتحہ میں اهْدِنَا القِيرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی تعلیم کی اور فرمایا کہ تم یہ دُعا کرو کہ اے اللہ ہم کو صراط مستقیم کی ہدایت فرماوہ صراط مستقیم جو ان لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرے انعام واکرام ہوئے۔اس دُعا کے ساتھ ہی سورۃ البقرہ کی پہلی ہی آیت میں یہ بشارت دے دى ذلك الكتب لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ۔گویا روحیں دُعا کرتی ہیں اور ساتھ ہی قبولیت اپنا اثر دکھاتی ہے اور وہ وعدہ دعا کی قبولیت کا قرآن مجید کے نزول کی صورت میں پورا ہوتا ہے۔ایک طرف دُعا ہے اور دوسری طرف اس کا نتیجہ موجود ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور کرم ہے جو اس نے فرمایا مگر افسوس دنیا اس سے بے خبر اور غافل ہے اور اس سے دور رہ کر بلاک ہورہی ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے جو ابتدائے قرآن مجید میں متقیوں کے صفات بیان فرمائے ہیں ان کو معمولی صفات میں رکھا ہے۔لیکن جب انسان قرآن مجید پر ایمان لا کر اسے اپنی ہدایت کے لئے دستور العمل بناتا ہے تو وہ ہدایت کے ان اعلیٰ مدارج اور 170