نُورِ ہدایت — Page 172
حرکت و سکون محض اللہ تعالیٰ کے حکم اور اؤن کے ماتحت بنی نوع کی بھلائی کے لئے وقف ہو۔دوسرے لفظوں میں یہ کہو کہ مِمَّا رَزَقْتُهُم يُنفِقُونَ کا کمال یہی ہے جو هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کے منشاء کے موافق ہے۔الحکم نمبر 3 جلد 10 مؤرخہ 24 جنوری 1906 صفحہ 4-5) اس کے بعد ایک اور صفت متقیوں کی بیان کی یعنی وہ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إليك کے موافق ایمان لاتے ہیں اور ایسا ہی جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اللہ تعالی نے نازل فرمایا اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔لیکن اب سوال یہ ہے کہ اگر اتنا ہی ایمان ہے تو پھر ہدایت کیا ہے؟ وہ ہدایت یہ ہے کہ ایسا انسان خود اس قابل ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر وحی اور الہام کا دروازہ کھولا جاتا ہے اور وہ وحی الہی اس پر بھی اترتی ہے جس سے اس کا ایمان ترقی کر کے کامل یقین اور معرفت کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے اور وہ اس ترقی کو پالیتا ہے جو ہدایت کا اصل مقصود تھا۔اس پر وہ انعام و اکرام ہونے لگتے ہیں جو مکالمہ الہیہ سے ملتے ہیں۔یہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے وحی اور الہام کے دروازہ کو بند نہیں کیا جو لوگ اس اُمت کو الہام ووحی کے انعامات سے بے بہرہ ٹھہراتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں اور قرآن شریف کے اصل مقصد کو انہوں نے سمجھا ہی نہیں۔ان کے نزدیک یہ امت وحشیوں کی طرح ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیرات اور برکات کا معاذ اللہ خاتمہ ہو چکا اور وہ خدا جو ہمیشہ سے متکلم خدا ر ہا ہے اب اس زمانہ میں آکر خاموش ہو گیا۔وہ نہیں جانتے کہ اگر مکالمه مخاطبہ نہیں تو هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کا مطلب ہی کیا ہوا۔بغیر مکالمہ مخاطبہ کے تو اس کی ہستی پر کوئی دلیل قائم نہیں ہوسکتی اور پھر قرآن شریف میں یہ کیوں کہا: وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت 70) اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا : إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلبِكَةُ إِلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا (لحم السجدة (31) یعنی جن لوگوں نے اپنے قول اور فعل سے بتا دیا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر انہوں نے استقامت دکھائی ان پر فرشتوں کا نزول ہوتا 172