نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1134 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1134

بچانا جب وہ چھا جائے۔غَسَقَ الَّيْلُ کا مطلب ہوتا ہے رات جب اندھیری ہو جائے ، جب بھیگ جائے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو دوسری جگہ خود واضح کیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔أقيم الصَّلاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلى غَسَقِ اللَّيْلِ (بنى اسرائيل 79) کہ جب رات گہری ہو جائے اس وقت بھی نماز پڑھا کرو۔کیونکہ اس وقت خطرات سے بچنے کے لئے دعاؤں کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔یہی مضمون ہے جو اس آیت میں بیان فرمایا وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ۔اس وقت کھڑے ہو جایا کرو عبادت کے لئے اور دعائیں کیا کرو کہ رات کے خطرات سے بھی ہمیں محفوظ رکھنا۔تُو نے ایک صبح امید تو پیدا فرمائی لیکن ہم جانتے ہیں کہ ہر صبح کے ساتھ ایک رات بھی وابستہ ہوا کرتی ہے۔تو صبح کے وہ فضل تو لے کر آیا لیکن راتوں کے شر سے بھی ہمیں محفوظ رکھنا۔فَالِقُ الْإِصْبَاح کا یہ وہ مضمون ہے جس کی طرف قرآن کریم نے خود اشارہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَالِي الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنَّا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا (الانعام (97) فَالِقُ الْإِصْبَاح تو وہ ہے۔لیکن فلق کے بعد ایک رات بھی آیا کرتی ہے۔خدا کے مومن بندے جو اس کی طرف جھکنے والے ہیں اور اس کی یاد میں مبتلا رہتے ہیں ان کے لئے وہ رات سکینت لے کر آتی ہے اور بے چینی اور بے فکری کوڈ ور کرنے والی ہوتی ہے۔لیکن وہ لوگ جو اس نظام سے غافل ہوتے ہیں اور اللہ کی یاد سے غافل ہو جاتے ہیں وہی رات ان کے لئے شر لے کر بھی آ جاتی ہے۔تو فرمایا وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ۔جب اندھیرے آئیں گے تو ان کے شر سے بھی ہمیں محفوظ رکھنا۔اندھیروں کے شر کیا ہیں ؟ اس کا بھی ان آیات میں ذکر ہے۔اور اندھیرے کس کس قسم کے آتے ہیں؟ ان کا بھی ان آیات میں ذکر ہے۔ایک اندھیرے تو وہ ہیں جو روشنی کے نتیجہ میں ایک رد عمل کے طور پر پیدا ہوتے ہیں۔ایک اندھیرے وہ ہیں جو قانون قدرت کے مطابق دن 1134