نُورِ ہدایت — Page 1133
كان يَئُوسًا (بنی اسرائیل 84) کہ ایسے گھڑ دلے لوگ ہوتے ہیں جو زندگی کے دونوں پہلوؤں سے واقف نہیں ہوتے ، جو خدا تعالیٰ کی کائنات کے رازوں سے بے پرواہ ہو جاتے ہیں، جب ہم ان کو نعمت عطا فرماتے ہیں ، أَعْرَضَ وَنَا بِجانبه ، اس کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ وہ نعمت لینے سے انکار کر دیتے ہیں۔۔۔ایک اور پہلو یہ ہے کہ ہم نعمت عطا کرتے ہیں اور وہ أَعْرَضَ وَنَا بِجانبہ وہ انسان خود پرستی میں مبتلا ہو جاتا ہے اور دین سے اور شکر کا حق ادا کرنے سے پہلو تہی کرتا ہے۔ونا بجانبہ اور ہر چیز کو اپنی جانب ہی سمیٹ لیتا ہے۔یعنی پہلو تہی اس رنگ میں گویا ئیں ہی تھا، سب کچھ میرا ہی ہے اور کسی کا کوئی دخل نہیں۔یعنی خدا تعالیٰ کی رحمت سے گلیہ غافل اور اس کے شکر سے حلیہ غافل ہو جاتا ہے اور وہ نہیں جانتا کہ اس کے بعد شر بھی آنے والا ہے ایسی حالتیں ہمیشہ شر لے کر آتی ہیں۔نتیجہ وَإِذَا مَسَّهُ اللرُ كَانَ يَمُوسًا۔اس وقت بھی اس کی عجیب حالت ہوتی ہے۔جب اس کو شر پہنچتا ہے تو ایسے شخص میں مقابلہ کی طاقت نہیں ہوتی۔وہ ایک کیفیت سے مغلوب ہونا جانتا ہے۔یہ نفسیاتی فلسفہ ہے جو قرآن کریم بیان کر رہا ہے کہ وہ لوگ جو زندگی کے دونوں پہلوؤں پر بیک وقت نظریں نہیں رکھتے وہ ایک پہلو سے مغلوب ہو جاتے ہیں۔جس طرح وہ خوشی سے مغلوب ہو جاتے ہیں اسی طرح شر سے بھی مغلوب ہو جاتے ہیں۔اور شر آ تا ہے تو زندگی سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ان کو روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آتی۔ان چیزوں سے پناہ کی تلقین فرمائی گئی۔دعا سکھائی گئی۔قُل أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ اے خدا ! تو جونئی نئی امید میں پیدا کرنے والا اور ہمارے لئے ترقی کے نئے راستے کھولنے والا ہے۔تو ہماری کوششوں کے بیجوں کو نئے پودوں اور لہلہاتی ہوئی کونپلوں میں تبدیل کرنے والا خدا ہے۔تو زندگی کے اس عمل کے شر سے ہمیں محفوظ رکھنا کیونکہ ہر پیدائش کے ساتھ کچھ شر بھی لگے ہوتے ہیں اور ہمیں موت سے غافل نہ ہونے دینا۔کیونکہ جس وقت زندہ چیز موت کے خطروں سے غافل ہو جاتی ہے وہ ہمیشہ انحطاط پذیر ہو جاتی ہے۔وَمِن شَرِ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ۔اور رات کے خطروں سے بھی 1133