نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1135 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1135

اور رات کے آدلنے بدلنے کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں جو تِلْكَ الْآيَامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ (آل عمران (14) کا مضمون لے کر آتے ہیں۔یعنی خدا کی طرف سے ترقیات تو عطا ہوتی ہیں لیکن جو قومیں ان ترقیات کا شکر ادا نہیں کرتیں وہی دن ان کے لئے راتوں میں تبدیل ہو جایا کرتے ہیں۔اور قوموں کی تاریخ کا خلاصہ یہی ہے کہ کبھی وہ عروج حاصل کر رہی ہیں، کبھی زوال پذیر ہورہی ہیں۔لیکن دنیا میں تو یہ ایک طبعی نظام کے طور پر ہمیں ملتا ہے کہ لازماً روشنی کے بعد اندھیرے نے آنا ہے۔مگر قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ روشنیاں جو ہم مذہبی قوموں کو عطا کیا کرتے ہیں ان کے بعد اندھیر الازم نہیں ہے۔ہو سکتا ہے اور یہ ایک حد تک تمہارے اپنے اختیار میں ہے کہ ان روشنیوں کا زمانہ لمبا کرلو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِنَّ اللهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيْرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ۔وَإِذَا أَرَادَ اللهُ بِقَوْمٍ سُوْءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ۔(الرعد12) کہ خدا تعالیٰ نے ایک تقدیر بنادی ہے۔یہ مبرم تقدیر ہے جوٹل نہیں سکتی۔لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ جو نعمتیں کسی قوم کو عطا فرماتا ہے ان کو پھر تبدیل نہیں کیا کرتا۔حَتَّى يُغَيْرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ یہاں تک کہ وہ خود تبدیل ہونے لگتے ہیں۔خود بلانے لگتے ہیں تباہی کو اور ہلاکت کو اور تنزل کو۔اس وقت خدا کی ایک اور تقدیر ظاہر ہوتی ہے اور ان کے اعمال کا نتیجہ ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔فرماتا ہے وَإِذَا أَرَادَ اللهُ بِقَوْمٍ سُوْءٍ فَلَا مَر ذَلَہ پھر جب اللہ یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ اس قوم کو برائی میں مبتلا کیا جائے گا۔لَا مَرَد لَهُ اس فیصلہ کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔یہ بھی اندھیرے ہوتے ہیں جو خدا کی عطا کردہ روشنیوں کے بعد آتے ہیں۔لیکن ان اندھیروں میں بندوں کا دخل ہے۔وہ کوئی ایسا نظام نہیں ہے جو ٹالا نہیں جاسکتا۔اس کے برعکس کچھ ایسے اندھیرے ہیں جو روشنیوں کے نتیجہ میں ازخود پیدا ہو جاتے ہیں۔ان کا بھی قرآن کریم میں بلکہ اسی آیت میں ذکر ہے۔وہ اندھیرے ہیں ترقی کے نتیجہ میں حسد کی پیداوار۔اور وہ اندھیرے مومن کی خوشی کی تقریب کے ساتھ ساتھ لاز ما چلتے ہیں۔وہ خدا کی طرف سے عائد کردہ اندھیرے نہیں ہیں بلکہ خدا کے دشمنوں کی طرف سے عائد کردہ اندھیرے 1135