نُورِ ہدایت — Page 1086
قائم رہتی ہیں۔پس لغم یلڈ نے ثابت کر دیا کہ اس کی طاقت کبھی ختم نہیں ہوگی اور اس کی صمدیت ہمیشہ قائم رہے گی۔حمد اس آیت میں ایک اور بات جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ اس جگہ آخر ییں کے الفاظ پہلے رکھے گئے ہیں۔اور لغم یولن کے بعد میں۔حالانکہ آخر یلد ابدیت پر دلالت کرتا ہے اور لم يولد از لیت پر دلالت کرتا ہے اور ازلیت پہلے ہوتی ہے اور ابدیت پیچھے ہوتی ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ ازلیت کا علم کسی انسان کو نہیں ہوسکتا۔کیونکہ انسان دور حاضر کی پیدائش ہے۔وہ ازلیت کا علم ابدیت سے ہی حاصل کر سکتا ہے۔چونکہ تمام گزشتہ تاریخ عالم اس بات کا ایک ثبوت ہے کہ کبھی بھی دنیا خدا کی مدد سے محروم نہیں رہی۔اور دوسرے یہ ثابت ہے اس کا کوئی لڑکا نہیں۔اس لئے معلوم ہوا کہ وہ ابدی ہے اور جب وہ ابدی ہے تو لازماً ازلی بھی ہے۔کیونکہ آئندہ کی فنا سے وہی محفوظ رہ سکتا ہے جو گزشتہ پیدائش سے بھی محفوظ ہو۔وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ کھو کے معنے مثیل اور برابر کا درجہ رکھنے والے کے ہوتے ہیں۔۔۔۔صرف یہی نہیں کہ خدا کسی کا بیٹا نہیں یا خدا کا آگے کوئی بیٹا نہیں بلکہ اس کا مماثل اور مشابہ بھی کوئی نہیں۔اس آیت میں ایک لطیف پیرایہ میں اس حقیقت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ کی بعض صفات کے مشابہ صفات انسانوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔پھر بھی خدا تعالیٰ کا کوئی ہمتا اور ہمسر نہیں۔کیونکہ انسان کے اندر جو صفات پائی جاتی ہیں وہ ایسے طور پر نہیں پائی جاتیں کہ وہ خدا تعالیٰ کا کفو ہو سکے۔یہ سورۃ آخری زمانہ میں دہریت اور عیسائیت جیسے خطرناک فتنوں کے مٹانے اور اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی احدیت کو ثابت کرنے کے لئے اور تمام قوموں کو ایک نقطہ مرکزی پر جمع کرنے کے لئے نازل کی گئی ہے۔رسول کریم علیم کی بعثت سے پہلے اللہ تعالیٰ کے مختلف نام دنیا میں بولے جاتے رہے۔کوئی اُسے گاڈ (God) کہتا۔اور کوئی پرمیشور۔کوئی یزدان کہتا اور کوئی الو ہیم۔اور لوگ اپنی نادانی سے یہ سمجھتے تھے کہ فلاں ہندوؤں کا خدا 1086