نُورِ ہدایت — Page 1070
لَمْ يُولَدُ۔وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ یعنی خدا ایک ہے اور آحد ہے یعنی اس میں کوئی ترکیب نہیں۔نہ کوئی اس کا بیٹا اور نہ وہ کسی کا بیٹا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔پس اس سورت میں تو اس قوم کے عقائد بتلائے گئے۔(تحفہ گولر و بیه، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 269 270 حاشیہ) لا قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدُ اللهُ الصَّمَدُ۔کہ وہ معبود حقیقی جس کی طرف سب چیزیں عبودیتِ تامہ کی فنا کے بعد یا قہری فنا کے بعد رجوع کرتی ہیں ایک ہے۔باقی سب مخلوقات دو قسم فنا میں سے کسی فنا کے نیچے ہیں اور سب چیزیں اس کی محتاج ہیں۔وہ کسی کا محتاج نہیں۔لعمھ بلڈ۔وَلَمْ يُولَدُ۔وہ ایسا ہے کہ نہ تو اس کا کوئی بیٹا ہے اور نہ وہ کسی کا بیٹا ہے۔وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا آحد۔اور ازل سے اس کا کوئی نظیر اور مثیل نہیں۔یعنی وہ اپنی ذات میں نظیر اور مثیل پاک اور منزہ ہ ہے۔۔۔۔۔دونوں سورتوں (اخلاص اور فلق ) میں ایک ہی فرقہ کا ذکر ہے صرف فرق یہ ہے کہ سورۃ اخلاص میں اس فرقہ کی اعتقادی حالت کا بیان ہے اور سورۃ الفلق میں اس فرقہ کی عملی حالت کا ذکر ہے۔( تحفہ گولڑ و بیه، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 270 ، 271 حاشیہ) حمید قرآن میں ہمارا خدا اپنی خوبیوں کے بارے میں فرماتا ہے قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ اللهُ الصَّمَدُ۔لَمْ يَلِدُ۔وَلَمْ يُولَدُ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا اَحَدُ۔یعنی تمہارا خدا وہ خدا ہے جو اپنی ذات اور صفات میں واحد ہے۔نہ کوئی ذات اس کی ذات جیسی از لی اور ابدی یعنی انادی اور اکال ہے نہ کسی چیز کے صفات اس کی صفات کی مانند ہیں۔انسان کا علم کسی معلم کا محتاج ہے اور پھر محدود ہے مگر اس کا علم کسی معلم کا محتاج نہیں اور بایں ہمہ غیر محدود ہے۔انسان کی شنوائی ہوا کی محتاج ہے اور محدود ہے مگر خدا کی شنوائی ذاتی طاقت سے ہے اور محدود نہیں۔اور انسان کی بینائی سورج یا کسی دوسری روشنی کی محتاج ہے اور پھر محدود ہے مگر خدا کی بینائی ذاتی روشنی سے ہے اور غیر محدود ہے۔ایسا ہی انسان کی پیدا کرنے کی قدرت کسی مادہ کی محتاج ہے اور نیز وقت کی محتاج اور پھر محدود ہے لیکن خدا کی پیدا کرنے کی قدرت نہ کسی مادہ کی محتاج ہے نہ کسی 1070