نُورِ ہدایت — Page 1069
میں نہ ڈالے کہ وہ فرد خاص اپنے بنی نوع سے بڑھ کر ایک ایسی خاصیت اپنے اندر رکھتا ہے کہ کوئی دوسرا شخص نہ اصلاو نہ ظلاً اس کا شریک نہیں اور خدا تعالیٰ کی طرح کسی اپنی صفت میں واحد لاشریک ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں سورۃ اخلاص اسی بھید کو بیان کر رہی ہے کہ احدیت ذات وصفات خدا تعالیٰ کا خاصہ ہے۔دیکھو اللہ جل شانہ فرماتا ہے قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحه 44، 45) لا وَلَا الضَّالِّين۔۔۔کے مقابل پر قرآن شریف کے اخیر میں سورۃ اخلاص ہے۔یعنی قلی هُوَ اللهُ أَحَدُ اللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ۔۔۔وہ اہم مقصد جو قرآن میں مفصل بیان کیا گیا ہے سورہ فاتحہ میں بطور اجمال اس کا افتتاح کیا ہے اور پھر سورۃ تبت اور سورۃ اخلاص اور سورۃ فلق اور سورۃ الناس میں ختم قرآن کے وقت میں انہی دونوں بلاؤں سے خدا تعالی کی پناہ مانگی گئی ہے۔پس افتتاح کتاب اللہ بھی انہی دونوں دعاؤں سے ہوا اور پھر اختتام کتاب اللہ بھی انہی دونوں دعاؤں پر کیا گیا۔( تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 218) قرآن نے اپنے اول میں بھی مغضوب علیہم اور ضالین کا ذکر فرمایا ہے اور اپنے آخر میں بھی جیسا کہ آیت لَمْ يَلِدُ وَلَمْ يُولّد بصراحت اس پر دلالت کر رہی ہے اور یہ تمام اہتمام تاکید کے لئے کیا گیا اور نیز اس لئے کہ تا مسیح موعود اور غلبہ نصرانیت کی پیشگوئی نظری نہ رہے اور آفتاب کی طرح چمک اُٹھے۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 222) آخری مظہر شیطان کے اسم دجال کا جو مظہر اتم اور اکمل اور خاتم المظاہر ہے وہ قوم ہے جس کا قرآن کے اول میں بھی ذکر ہے اور قرآن کے آخر میں بھی۔یعنی وہ ضالین کا فرقہ جس کے ذکر پر سورۃ فاتحہ ختم ہوتی ہے اور پھر قرآن شریف کی آخری تین سورتوں میں بھی اس کا ذکر ہے یعنی سورہ اخلاص اور سورہ فلق اور سورہ ناس میں۔صرف یہ فرق ہے کہ سورہ اخلاص میں تو اس قوم کی اعتقادی حالت کا بیان ہے جیسا کہ فرمایا قُل هُوَ اللهُ أَحَدُ اللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدُ۔وَ 1069