نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1055 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1055

سمجھاتا کہ دیکھو محمد علی مجنون ہے۔ہم اس کے چچا ہیں۔وہ ہمارا بیٹا ہی ہے۔ہم اس کا علاج کر رہے ہیں۔تم اس کے پاس مت جاؤ۔بعض کو کہتا کہ محمد ( ال ) پر کسی نے جادو کیا ہوا ہے۔ایسے جادوزدہ شخص کے پاس جا کر تم کیا لو گے۔بہتر ہے کہ یہیں سے واپس چلے جاؤ۔چنانچہ اس طرح کی باتیں بنا بنا کر لوگوں کو واپس کرنے کی کوشش کرتا رہتا۔بعض بدقسمت اس کا کہنا مان لیتے اور واپس چلے جاتے۔اور جو لوگ زیادہ ہوشیار ہوتے وہ کہتے کہ ہم تو اس کو ملنے کے واسطے آئے ہیں۔کچھ ہی ہو اب تو ملاقات کر کے ہی جائیں گے۔ایسے لوگوں پر خفاہوتا اور پھر جھنجھلا کر آنحضرت علایم کو گالیاں دیتا۔اور بعض کے کانوں میں روئی ڈال دیتا کہ اچھا تم ضرور جانا چاہتے ہو تو جاؤ مگر اس کی باتیں نہ سننا کیونکہ اس کی باتوں میں ایک جادو ہے وہ تم پر اثر کر جائے گا تو تم بھی اس کے ساتھ شامل ہو جاؤ گے۔چنانچہ ایک صحابی کے ساتھ ایسا ہی کیا اور اس کے ساتھ ایک آدمی بھی لگایا کہ جلد اس کو واپس لے آنا۔زیادہ دیر تک وہاں بیٹھنے نہ دینا۔ورنہ ( نعوذ باللہ ) خراب ہو جائے گا۔مگر وہ خدا کا بندہ ہوشیار آدمی تھا۔اس نے تھوڑی دور جا کر اس آدمی کو واپس کر دیا کہ تم جاؤ۔میں خود اپنا راستہ تلاش کرلوں گا۔اور روٹی کو کانوں میں سے نکال کر پھینک دیا۔ربیعہ بن عباد سے روایت ہے وہ کہتا ہے میں نے ایک دفعہ حضرت رسول کریم عالم کو ابتدائے زمانہ رسالت میں دیکھا کہ آپ سوق المجاز میں کہہ رہے تھے۔اے لوگو ! لا إلهَ إِلَّا الله کہو تو تم اپنی مراد کو پہنچ جاؤ گے۔بہت سے لوگ آپ کے پاس جمع تھے۔اور آپ کا وعظ سن رہے تھے۔آپ کے پیچھے ایک شخص سرخ چہرہ والا اور اخول لوگوں کو بہکاتا تھا کہ یہ شخص صابی ہے اور جھوٹ بولتا ہے۔جدھر آنحضرت علایم جاتے وہ بھی آپ کے پیچھے پیچھے جاتا اور لوگوں کو بہکاتا کہ یہ شخص تم کو لات اور غنی کی عبادت سے منع کرتا ہے اس کے پیچھے مت جاؤ اور اس کی پیروی نہ کرو۔میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ شخص کون ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ آنحضرت ملالہ کا اچھا ہے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے۔آنحضرت علیم نے اس کو تبلیغ کی تو اس نے سختی سے انکار کیا۔تب آپ نے خیال کیا کہ یہ متکبر آدمی ہے۔لوگوں کے سامنے اس کو سمجھانا مفید نہیں پڑتا۔شاید اس کو علیحدگی 1055