نُورِ ہدایت — Page 1054
کسی دشمن پر فتح ہوگی وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطب۔( البدر جلد اول نمبر 11 مورخہ 9 جنوری 1903 صفحہ 84) ابولہب قرآن کریم میں عام ہے، نہ خاص۔مراد وہ شخص ہے جس میں التہاب واشتعال کا مادہ ہو۔اس طرح عمالة الخطب ہیزم کش عورت سے مراد ہے جو سخن چین ہو، آگ لگانے والی۔چغل خور عورت آدمیوں میں شرارت کو بڑھاتی ہے۔سعدی کہتا ہے۔سخن چین بدبخت هیزم کش است حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : الحکم جلد 2 نمبر 2 مورخہ 6 مارچ1898 صفحہ 2) اس سورۃ شریف کا نام سورۃ تبت ہے۔اور اس کو سورۃ لھب بھی کہتے ہیں۔یہ سورت مکہ معظمہ میں اتری ہے۔ملا آبی لھب۔کفار مکہ کے اکابر میں سے ایک شخص تھا۔رشتہ میں آنحضرت سلیم کا چا تھا۔ابولہب اس کی کنیت تھی اور اس کا نام عبد العزہ ہی تھا۔عرب میں ہر شخص کو بہ سبب عزت کے کنیت سے بلاتے تھے۔اور اصل نام کی بجائے اکثر لوگ کنیت کے ساتھ زیادہ معروف ہوتے تھے۔لھب کے معنے ہیں شعلہ۔اور اب کے معنے باپ۔آپی لھب کے معنے ہوئے شعلہ کا باپ۔بعض کا قول ہے کہ اس نے تکبر کے طور پر اپنے لئے یہ کنیت پسند کی تھی۔ابولہب اس واسطے بھی اسے کہتے تھے کہ اس کا چہرہ بہت سرخ تھا۔شخص آنحضرت علی کے ساتھ نہایت عداوت رکھتا تھا۔اور عداوت کی وجہ سوائے اس کے نہ تھی کہ آنحضرت عمیل یا کلمہ توحید کا وعظ فرماتے تھے۔اور یہ بت پرست تھا۔رات دن حضرت کو تکلیف دینے کے درپے رہتا تھا۔جو لوگ باہر سے آتے اور آنحضرت میام کو ملنا چاہتے ان کو آگے جا کر راستہ ہی میں ملتا اور بڑے تکلف اور تکبر کے ساتھ باتیں کرتا ہوا ان کو 1054