نظام وصیت — Page 70
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 70 فیصلہ کرنے والے اور ہونے چاہئیں۔تو بسا اوقات انسان سمجھتا ہے کہ جو کچھ میں کر رہا ہوں دیانت داری کے ماتحت ہے مگر وہ بے وقوفی اور نادانی ہوتی ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ جنہوں نے کسی نہ کسی طرح مقبرہ بہشتی میں داخل ہونے کی کوشش کی وہ دھوکہ باز تھے۔بہت سے ان میں ایسے تھے جنہوں نے صرف یہ خیال کیا کہ جنت میں داخل ہونے کے لئے مقبرہ بہشتی میں دفن ہو جانا کافی ہے پھر کیوں نہ ہم دنیا میں بھی مال سے فائدہ اٹھا ئیں۔بلکہ میں تو کہوں گا ایک رنگ میں ان کا ایمان بڑھا ہوا تھا کہ انہوں نے سمجھا اگر ہم دھوکہ کر کے بھی مقبرہ میں داخل ہو جائیں گے تو بھی خدا تعالیٰ ہمیں اس میں داخل ہونے کی وجہ سے جنتی قرار دے دیگا۔بے شک ایسے لوگ غلطی پر تھے۔اور ان کا خیال درست نہ تھا۔انہوں نے وصیت کا غلط مفہوم لیا اور دھو کہ میں پڑ گئے مگر وصیت سے سب سے بڑا فتنہ ایک اور پیدا ہوا جو خیال میں بھی نہیں آسکتا۔اور وہ خلافت کے متعلق فتنہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خیال بھی نہ ہو گا جب آپ نے وصیت لکھی کہ ایسی جماعت بھی پیدا ہوگی جو اس کے ماتحت کہے گی کہ خلیفہ نہیں ہونا چاہیے۔مگر اس طرح بھی وصیت ٹھوکر کا باعث ہوئی۔اور ایسا فتنہ پیدا ہوا جس نے جماعت کو تہ و بالا کر دیا۔اور ایک وقت تو ایسا آیا کہ سوائے معدودے چند لوگوں کے سب اس طرف ہو گئے کہ خلیفہ کو منتخب کرنا غلط تھا۔مگر حضرت خلیفہ اول کی تقریر نے بتا دیا کہ یہ خیال غلط تھا اور خلیفہ کا انتخاب بالکل درست تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد جماعت پر روحانیت اور برکات کے نزول کا خاص وقت تھا۔اور ممکن ہی نہیں کہ نبی کے فوت ہونے کے معاً بعد جماعت گمراہی اور ضلالت پر جمع ہو۔کیا یہ ممکن ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے نبی کو اٹھا لیا اور جماعت سب سے زیادہ رحم کی مستحق ہو گئی۔اس وقت خدا تعالیٰ جماعت کو گمراہ ہونے دے۔پس در حقیقت سچا فیصلہ وہی تھا جو جماعت نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد خلیفہ کے انتخاب کے متعلق کیا۔لیکن پھر بھی کچھ ایسے لوگ تھے۔اور اب تو ان میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔جن کا خیال ہے کہ خلیفہ نہیں ہونا چاہیے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جماعت کے دوٹکڑے ہو گئے۔اور ایک ٹکڑا پرا گندہ ہو کر جماعت سے باہر چلا گیا پراگندہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ اس میں کوئی اتحاد