نظام وصیت

by Other Authors

Page 71 of 260

نظام وصیت — Page 71

71 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ نہیں مگر ان میں ایسے لوگ شامل ہیں جو کسی وقت جماعت میں اہمیت رکھتے تھے۔تو ان کے لئے وصیت ٹھوکر کا موجب ہوئی اور يضل به كثيرا ان کے متعلق بھی ظاہر ہوا ہے۔احمدیت ترقی کرے گی تو 1/10 حصہ کی وصیت کافی نہ ہوگی : میں سمجھتا ہوں وصیت کے مسائل ابھی ایسے پیچیدہ ہیں کہ آئندہ بھی ٹھوکر کا موجب ہو سکتے ہیں۔مگر میں ”سرود عستان یاد دهانیدن“ کے مطابق ان کا ذکر نہیں کرنا چاہتا۔اس وقت میں صرف ایک مسئلہ کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں اور وہ وہ مسئلہ ہے جس کا اس سال کی مجلس مشاورت میں بھی ذکر ہوا تھا کہ کس قدر آمد پر کوئی شخص وصیت کرے۔اور آمد اور جائیداد پر وصیت ہو یا نہ ہو میں نے جہاں تک وصیت کو پڑھا ہے کبھی ایک منٹ کے لئے بھی مجھے یہ خیال نہیں آیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اس سے منشاء یہ تھا کہ جو اس زمین میں دفن ہو جائے وہ جنتی ہو گا۔یہ بات ایسی ہے کہ خدا تعالیٰ تو الگ رہا حضرت مسیح موعود کی طرف بھی منسوب نہیں کی جاسکتی اور یہ وہ تعلیم ہے کہ شروع سے لے کر اخیر تک جس کا قرآن انکار کر رہا ہے۔میں تو یہ سمجھ نہیں سکتا کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ رسول کریم ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلق رکھنے سے تو جنتی نہ ہو سکے۔لیکن اس زمین میں دفن ہونے سے جنتی ہو جائے۔اس طرح تو نعوذ باللہ اس زمین کا خدا تعالیٰ سے بھی بڑا درجہ ہوا کہ اس زمین سے تعلق رکھنے والا جنتی بن سکتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ اور حضرت مسیح موعود سے تعلق رکھ کر کوئی شخص جنتی نہیں بن سکتا تو پھر اس زمین میں کونسی طاقت ہو سکتی ہے کہ جو اس زمین میں دفن ہو جائے۔وہ سیدھا جنت میں چلا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ منشاء ہرگز نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ بات قرآن کریم کی تعلیم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم اور خود وصیت کی تعلیم کے خلاف ہے۔الله جو منشاء وصیت کا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے ایک ادنیٰ قربانی پیش کی ہے۔جو اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ جو شخص اس قدر قربانی کرتا ہے۔اس کے نفس میں اصلاح ہے اور جو اتنی قربانی کر دے اس کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ جنتی ہے پس اگر وصیت سے اس قسم کی قربانی مراد ہے تو