نظام وصیت — Page 69
69 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ انہوں نے گویا رجسٹر مقبرہ بہشتی میں اپنا نام لکھا جانا کافی سمجھا جنتی بننے کے لئے اگر یہی بات ہو کہ جس طرح بھی کوئی اس زمین میں دفن ہو جائے وہ جنتی بن جائے۔تو ہمیں سارا رو پید اس پر خرچ کرنا پڑے کہ مقبرہ کے ارد گرد پہرہ دار مقرر کئے جائیں۔جو بندوقیں لے کر کھڑے رہیں تا کہ اس میں کوئی زبر دستی دفن نہ کر جائے۔ادھر جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف داخل ہو جانے سے ہی جنت مل سکتی ہے وہ رات کو لاش لا کر دفن کر جائیں۔اس طرح مقبرہ تمسخر اور کھیل بن جاتا ہے۔پس بعض نے اس طرح ٹھوکر کھائی کہ خیال کر لیا اس زمین میں دفن ہونے سے انسان جنتی بن جاتا ہے۔اور اس کے لئے لگے دھو کے کرنے اور بعض نے اس کی غرض اور منشاء کو نہ سمجھ کر دھو کہ کھایا۔کوئی کہے ادھر جنتی بنے کی خواہش اور ادھر دھو کہ کرنا یہ دونوں متضاد باتیں کس طرح پائی جاسکتی ہیں۔مگر یاد رکھنا چاہیے جو لوگ ایمان کو ٹونے ٹوٹکے کے طور پر سمجھتے ہیں اور جن کے عقیدہ کی بنیاد عقل پر نہیں ہوتی وہ اس قسم کی متضاد با تیں جمع کر لیتے ہیں۔ہم اس کا نام ظاہر پرمحمول کر کے دھو کہ رکھتے ہیں۔مگر ایسے لوگ حقیقت میں سمجھتے ہیں کہ ایسا ہی ہو سکتا ہے اس لئے وہ اپنے نزدیک دھوکہ نہیں کر رہے ہوتے۔عام مسلمانوں میں یہ خیال پایا جاتا ہے اور حضرت خلیفہ اول (اللہ آپ سے راضی ہو ) سناتے تھے کہ بعض لوگ قرآن کریم کی چوری چوری نہیں سمجھتے۔اور ان کا خیال ہے۔خدا کا کلام چرا لینا گناہ نہیں۔ایک دفعہ ایک دوست کے سپر د کچھ روپے تھے اس نے ذاتی مصارف میں اس خیال سے صرف کر لئے کہ جب میرے پاس ہوں گے دے دوں گا۔میرا اس شخص سے بہت تعلق تھا۔مگر انجمن میں میں نے ہی یہ سوال اُٹھایا کہ اس طرح ان کو خرچ نہیں کرنا چاہیے تھا۔اس دوست نے بھی اقرار کر لیا کہ غلطی ہوگئی ہے میں جلد رو پید ادا کر دوں گا۔مگر ایک اور دوست کھڑے ہو گئے جنہوں نے یہ بحث شروع کر دی کہ یہ غلطی ہے ہی نہیں کیونکہ روپیہ خدا کے لئے جمع کیا جاتا ہے۔اور یہ بھی خدا کی مخلوق ہیں ان کو ضرورت تھی انہوں نے خرچ کر لیا تو حرج کیا ہو گیا اور اس میں غلطی کیا ہوئی۔تو ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں۔حالانکہ یہ واضح بات ہے کہ خدا کے لئے روپیہ جمع کیا جاتا ہے۔اور سب خدا کے بندے ہیں مگر جب اپنی ذات کے متعلق فیصلہ کرنا ہو تو غلطی کر جاتے ہیں۔اس کے لئے