نظام وصیت — Page 238
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 238 تھی کہ اس کی وصیت منسوخ کی جائے۔حضور نے فرمایا اگر انکم نہیں ہے تو دو صورتیں ہیں۔یہ کہہ کر کہ آج کل آمد نہیں ہے جو بھی گھر کا گزارہ ہے اس میں سے چندہ ادا کیا جائے۔یا یہ لکھ دیں کہ میری آمد نہیں ہے میری وصیت منسوخ کر دی جائے اور جب حالات درست ہوں گے تو بحالی کی کوشش کروں گا۔تقویٰ اور نیکی کی روح پیدا ہونی چاہئے۔ایسا موصی خود لکھ کر دے یا پھر انتظامیہ لکھ کر بھجوائے۔چندہ عام میں تو یہ شرط ہے کہ مجبوری کی صورت میں اجازت حاصل کر کے کم ادا کر دو لیکن چندہ وصیت میں ایسی کوئی شرط نہیں ہے۔حضور انور نے فرمایا کہ لوگ قرض لے کر خرچ کرتے ہیں لیکن اس پر بھی چندہ وصیت ادا کرتے ہیں۔پھر جب ان کی آمد ہوتی ہے تو قرض اتارتے ہیں اور لکھ دیتے ہیں کہ آمد میں سے اتنی رقم قرض اتارنے پر صرف ہوگی اور اس پر چندہ ادا نہیں کروں گا کیونکہ اس پر چندہ پہلے ہی ادا ہو چکا ہے۔الفضل انٹر نیشنل 08 جنوری 2010 صفحہ 9 موصی کو ہر وقت اپنا جائز دیتے رہنا چاہئے کہ تقویٰ سے ہٹ کر اپنی کسی آمد کو ظاہر نہ کر کے اللہ تعالی سے کئے گئے عہد میں خیانت تو نہیں کر رہا؟ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 8 جنوری 2010ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن ) یہ وصیت کا چندہ ایک ایسا چندہ ہے جو کے جاری ہونے کے ساتھ جاری ہوا۔جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ 1905ء میں اللہ تعالیٰ سے حکم پا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو جاری فرمایا اور اس نظام میں شامل ہونے والے ہر شخص کے لئے ضروری قرار دیا کہ وہ 1/10 سے لے کر 1/3 تک اپنی آمد اور جائیداد کی وصیت کر سکتا ہے اور وصیت کرنے کے بعد یہ عہد کرتا ہے کہ میں تا زندگی اپنی آمد کا 1/10 سے 1/3 تک (جو بھی کوئی اپنے حالات کے مطابق خوشی سے شرح مقرر کرتا ہے ) ادا کروں گا۔اسی طرح اگر زندگی میں نہ ادا کیا گیا ہوتو مرنے کے بعد بھی جائیداد میں اسی شرح کے اندر رہتے ہوئے جو پیش کی گئی ہو اپنے عہد کے مطابق اس کی ادائیگی