نظام وصیت — Page 237
237 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ صیقل کرتے چلے جائیں گے، روشن کرتے چلے جائیں گے، چمکاتے چلے جائیں گے، خیر امت کہلانے والے بنے رہیں گے انشاء اللہ۔ایک معمولی قربانی کرنے والا غریب آدمی اور ایک بچہ جو چند پیس (Pense) اپنے جیب خرچ میں سے دیتا ہے وہ اس قربانی کی وجہ سے تبلیغ اسلام اور تعمیر مساجد اور نیکیوں کو پھیلانے اور برائیوں کو روکنے میں حصہ دار بنتا چلا جائے گا۔اللہ تعالیٰ ہم میں اور ہماری نسلوں میں قربانی کی یہ روح ہمیشہ قائم رکھے اور ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتے ہوئے اس کے انعامات کے وارث بنتے چلے جائیں۔الفضل انٹر نیشنل 27 نومبر 2009 صفحہ 8 وصیت ایک ایسی تحریک ہے جس میں سب سے پہلے تقویٰ ہے میٹنگ نيشنل مجلس عامله بيلجيئم (13 دسمبر 2009) : وصیت کے چندہ کی ادائیگی کے بارہ میں سیکرٹری صاحب وصایا کے ایک سوال کے جواب میں حضور انور نے فرمایا کہ وصیت ایک ایسی تحریک ہے جس میں سب سے پہلے تقویٰ ہے۔ایک موصی کا تقویٰ کا معیارسب سے زیادہ بلند ہونا چاہئے۔اگر وہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر چندہ دے رہا ہے کہ میرا، اتنا ہی معیار ہے تو پھر اس کے مطابق دے۔کم آمد ہے تو کم دے، زیادہ آمد ہے تو زیادہ دے۔جو بھی آمد ہے اس پر تقویٰ کے ساتھ دے۔چندہ کے بقایا دار ہونے کے لحاظ سے ایک سوال پر حضور نے فرمایا کہ جو چھ ماہ کی شرط ہے یہ ایک انتظامی معاملہ ہے اور عموماً کسانوں وغیرہ کے لئے ہے جن کو فصل آنے پر آمد ہوتی ہے۔باقی ہر شخص کو اپنی ماہانہ آمد پر ہر ماہ چندہ ادا کرنا چاہئے۔جو مہینے کے مہینے کما رہا ہے اس کو ہر ماہ چندہ دینا چاہئے۔جو لازمی ضروری چندے ہیں وہ ہر وقت دینے چاہئیں۔چندہ وصیت ہر ماہ نیک نیتی کے ساتھ اپنی آمد پر دینا چاہئے۔ایک موصی کے تعلق میں حضور انور کی خدمت میں یہ سوال پیش کیا گیا ہے کہ وہ چھ ماہ کا بقایا دار ہو گیا ہے۔حضور نے فرمایا قواعد وصیت پڑھیں۔آپ کی طرف سے اب تک مرکز کو اطلاع آجانی چاہئے