نظام وصیت

by Other Authors

Page 239 of 260

نظام وصیت — Page 239

239 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ کے لئے اپنے ورثاء کو کہہ کے جاتا ہے اور ہر موصی سے یہی توقع رکھی جاتی ہے اور رکھی جانی چاہئے کہ وہ تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے اپنی حقیقی آمد میں سے چندہ ادا کرے اور اس بارہ میں کسی قسم کا عذر نہ کرے اور عموماً موصی نہیں کرتے۔پس ہر موصی کو خود بھی ہر وقت اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ کہیں تقویٰ سے ہٹ کر میں اپنی کسی آمد کو چاہے وہ معمولی سی کیوں نہ ہو ظاہر نہ کر کے اللہ تعالیٰ سے کئے عہد میں خیانت تو نہیں کر رہا؟ پس موصیان اور موصیات جماعت میں چندہ دینے والوں کا وہ گروہ ہے جس کے متعلق یہی خیال کیا جاتا ہے کہ وہ تقویٰ کے اعلیٰ معیاروں کے حصول کی کوشش کرنے والے ہیں اور ہر لحاظ سے قربانیوں کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والے ہیں جو اپنی آمد اور جائیداد کا ایک حصہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اپنی خوشی سے پیش کرتے ہیں۔نیز اپنے اعمال پر نظر رکھنے والے ہیں اور اس کے لئے کوشش کرنے والے ہیں۔اپنی عبادتوں کے معیار بلند تر کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں۔اپنے اخلاق بہترین رنگ میں سنوارنے کی کوشش کرنے والے ہیں۔حقیقی مومن بننے کی طرف ہر طرح سے کوشش کرتے ہوئے قدم بڑھانے والے ہیں۔اللہ کرے کہ ہر موصی اسی جذ بہ سے وصیت کرنے والا اور اس کو قائم رکھنے والا ہو۔الفضل انٹرنیشنل 29 جنوری 2010ء صفحہ 6,5 جولوگ میں شامل ہیں ان کے ایمان ، اطاعت اور قربانیوں کے معیار بھی ہمیشہ بڑھتے چلے جانے چاہئیں ( خطبہ جمعہ فرمودہ 27 رمئی 2011ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو اور نظام خلافت کو اکٹھا بیان فرمایا ہے تو اس میں ان تمام ضروریات کو پورا کرنے کا بھی ذکر فرمایا ہے اور پھر لوگ جو چندہ دیتے ہیں وہ خلافت کے نظام کی وجہ سے اس اعتماد پر بھی قائم ہیں کہ اُن کا چندہ فضولیات میں ضائع نہیں ہوگا بلکہ ایک نیک مقصد کے لئے استعمال ہوگا۔بلکہ غیر از جماعت بھی یہ اعتما در کھتے ہیں کہ اگر ہم زکوۃ احمدیوں کو۔