نظام وصیت — Page 45
45 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ مجھے یہ فکر ہے کہ کہیں لوگ کثرت مال کو دیکھ کر ٹھو کر نہ کھا جائیں۔گویا تم تو یہ کہتے ہو کہ ساری دنیا کے غریبوں کا انتظام کس طرح کرو گے اور وہ مال کہاں سے آئے گا جس سے ان کی ضروریات پوری کی جائیں گی مگر مجھے اس بات کا کوئی فکر نہیں کہ یہ مال کہاں سے آئے گا یہ مال آئے گا اور ضرور آئے گا مجھے تو فکر یہ ہے کہ کہیں کثرت مال کو دیکھ کر دنیا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی نہ رہ جائیں اور وہ لوگ جن کے سپر دیہ اموال ہوں وہ دنیا سے پیار نہ کرنے لگ جائیں اور لالچ کی وجہ سے ان مدات میں روپیہ خرچ نہ کریں جن مذات کے لئے یہ رو پیدا کٹھا کیا جائے گا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ سوال خود ہی اٹھایا ہے اور پھر خود ہی اس کا جواب دیا ہے کہ لوگ یہ خیال نہ کریں کہ اتنے خزانے کہاں سے آئیں گے۔آئیں گے اور ضرور آئیں گے مجھے اگر ڈر ہے تو یہ کہ کہیں کثرت مال کو دیکھ کر لوگ دنیا سے پیار نہ کرنے لگ جائیں کیونکہ رو پیدا کٹھا ہو گا اور اتنا اربوں ارب اور اربوں ارب اکٹھا ہو گا کہ اتنا مال نہ امریکہ نے کبھی دیکھا ہوگا نہ روس نے کبھی دیکھا ہوگا ، نہ انگلستان نے کبھی دیکھا ہوگا نہ جرمنی ، اٹلی اور جاپان نے کبھی دیکھا ہوگا بلکہ ساری حکومتوں نے مل کر بھی اتنا روپیہ کبھی جمع نہیں کیا ہو گا جتنا روپیہ اس ذریعہ سے اکٹھا ہو گا ، پس چونکہ اس ذریعہ سے اس قدر دولت اکٹھی ہوگی کہ اس قدر دولت دنیا کی آنکھ نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ کہیں لوگوں کے دلوں میں بد دیانتی پیدا نہ ہو جائے۔پس تم اس بات کا فکر نہ کرو کہ یہ نظام کس طرح قائم ہو گا تم یہ فکر کرو کہ اس کو صحیح استعمال کرنے کا اپنے آپ کو اہل بناؤ۔دنیا کی جائیداد میں تمہارے ہاتھ میں ضرور آئیں گی مگر تم کو اپنے نفوس کی ایسی اصلاح کرنی چاہیے کہ وہ جائیدادیں تمہارے ہاتھ سے دنیا کے فائدہ کے لئے صحیح طور پر خرچ کی جائیں۔- نظام نو۔انوار العلوم جلد 16 صفحہ 598,597 ) (7) ہمیشہ کیلئے انسانیت کی جڑیں مضبوط کرنے والا نظام : جس دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وصیت لکھی اور اُس کا مسودہ باہر بھیجا تو