نظام وصیت — Page 44
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 44 وعدوں کے مطابق یہ یقین رکھتے ہیں کہ آج سے پچاس یا ساٹھ یا سوسال کے بعد بہر حال دنیا پر احمدیت کا غلبہ ہو جائے گا تو ہمیں اس بات پر بھی کامل یقین ہے کہ یہ نظام جو حضرت مسیح موعود نے پیش فرمایا ہے ایک دن قائم ہو کر رہے گا۔زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں مگر خدا تعالی کی باتیں کبھی ٹل نہیں سکتیں۔نظام نو۔انوار العلوم جلد 16 صفحہ 597,596) (6) بميشه قائم رہنے والا اور وسعت اختیار کرنے والا نظام : بعض لوگ یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ یہ نظام نہ معلوم کب قائم ہوگا جماعت کی ترقی تو نہایت آہستہ آہستہ ہورہی ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ کبھی ہتھیلی پر سرسوں نہیں جمائی جاتی جو عمارت بے بنیاد ہو وہ بہت جلد گر جاتی ہے۔یہ جلد بنائے جانے والے نظام جلد گر جائیں گے نظام وہی قائم ہوگا جو ہر کس و ناکس کی دلی خوشنودی کے ساتھ قائم کیا جائے گا۔گھاس آج نکلتا اور کل سوکھ جاتا ہے لیکن پھل دار درخت دیر میں تیار ہوتا اور پھر صدیوں کھڑا رہتا ہے۔پس آئندہ جوں جوں ہماری جماعت بڑھتی چلی جائے گی وصیت کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے دنیا میں جس نظام کو قائم کیا ہے وہ بھی بڑھتا چلا جائے گا چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی کتاب الوصیۃ میں تحریر فرمایا ہے کہ : یہ مت خیال کرو کہ یہ صرف دور از قیاس با تیں ہیں بلکہ یہ اس قادر کا ارادہ ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے۔مجھے اس بات کا غم نہیں کہ یہ اموال جمع کیونکر ہوں گے اور ایسی جماعت کیونکر پیدا ہوگی جوایمانداری کے جوش سے یہ مردانہ کام دکھلائے بلکہ مجھے یہ فکر ہے کہ ہمارے زمانہ کے بعد وہ لوگ جن کے سپر دایسے مال کئے جائیں وہ کثرت مال کو دیکھ کر ٹھو کر نہ کھاویں اور دنیا سے پیار نہ کریں۔سو میں دعا کرتا ہوں کہ ایسے امین ہمیشہ اس سلسلہ کو ہاتھ آتے رہیں جو خدا کے لئے کام کریں ہاں جائز ہوگا کہ جن کا کچھ گزارہ نہ ہو ان کو بطور مد دخرچ اس میں سے دیا جائے۔“ یعنی مجھے اس بات کا خیال نہیں کہ وصیت کے نتیجہ میں اتنے روپے کہاں سے آئیں گے بلکہ