نظام وصیت — Page 46
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 46 خواجہ کمال الدین صاحب اس کو پڑھنے لگ گئے جب وہ پڑھتے پڑھتے اس مقام پر پہنچے تو وہ بے خود ہو گئے۔ان کی نگاہ نے اس کے حُسن کو ایک حد تک سمجھا وہ پڑھتے جاتے اور اپنی رانوں پر ہاتھ مار مار کر کہتے جاتے کہ واہ اوے مرز یا احمدیت دیاں جڑاں لگا دتیاں ہیں یعنی واہ واہ مرزا تو نے احمدیت کی جڑوں کو مضبوط کر دیا ہے۔خواجہ صاحب کی نظر نے بے شک اس کے حسن کو ایک حد تک سمجھا مگر پورا پھر بھی نہیں سمجھا درحقیقت اگر وصیت کو غور سے پڑھا جائے تو یوں کہنا پڑتا ہے کہ واہ او مرزا تو نے اسلام کی جڑیں مضبوط کر دیں، واہ او مرزا تو نے انسانیت کی جڑیں ہمیشہ کے لئے مضبوط کر دیں۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَعَلَى عَبْدِكَ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ وَبَارِك وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ - (نظام نو۔انوار العلوم جلد 16 صفحہ 599) نظام نو کی بنیا در کھنے والے پس اے دوستو! جنہوں نے وصیت کی ہوئی ہے سمجھ لو کہ آپ لوگوں میں سے جس جس نے اپنی اپنی جگہ وصیت کی ہے اس نے نظام نو کی بنیا درکھ دی ہے اُس نظام نو کی جو اس کی اور اس کے خاندان کی حفاظت کا بنیادی پتھر ہے اور جس جس نے تحریک جدید میں حصہ لیا ہے اور اگر وہ اپنی ناداری کی وجہ سے اس میں حصہ نہیں لے سکا تو وہ اس تحریک کی کامیابی کے لئے مسلسل دعائیں کرتا ہے اس نے وصیت کے نظام کو وسیع کرنے کی بنیادرکھ دی ہے۔پس اے دوستو! دنیا کا نیا نظام دین کومٹا کر بنایا جا رہا ہے تم تحریک جدید اور وصیت کے ذریعہ سے اس سے بہتر نظام دین کو قائم رکھتے ہوئے تیار کرومگر جلدی کرو کہ دوڑ میں جو آگے نکل جائے وہی جیتتا ہے۔پس تم جلد سے جلد و میتیں کرو تا کہ جلد سے جلد نظام نو کی تعمیر ہوا اور وہ مبارک دن آ جائے جب کہ چاروں طرف اسلام اور احمدیت کا جھنڈا لہرانے لگے اس کے ساتھ ہی میں ان سب دوستوں کو مبارکباد دیتا ہوں جنہیں وصیت کرنے کی توفیق حاصل ہوئی اور میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان