نظام وصیت — Page 68
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 99 68 لاشیں لائی جاسکتیں لوگوں میں اتنی جہالت تھی کہ قبروں کو اکھیڑ کر پھینک دینا معمولی بات سمجھتے تھے۔اس وجہ سے قبریں قائم نہ رہ سکتی تھیں۔اگر اس زمانہ میں بھی اس طرح کی سہولتیں ہوتیں جیسی اب ہیں تو ان کے لئے بھی الگ مقبرہ تجویز کیا جاتا۔مگر اس وقت لاشوں کا پہنچا نا بہت مشکل تھا اور اب تو ممکن ہے کہ دنیا کے دوسرے سرے سے بھی لاش آجائے۔ہوائی جہاز کے ذریعہ امریکہ سے دو چار دن میں لاش یہاں پہنچ سکتی ہے۔پس اب وہ زمانہ ہے جب کہ لاشیں دور دور سے پہنچ سکتی ہیں اور قبروں کی حفاظت کی جاسکتی ہے۔اس لئے ظاہری علامت کے طور پر مقبرہ بہشتی بھی مقرر کر دیا گیا ہے۔ورنہ مقبرہ بہشتی تو پہلے سے ہی اسلام میں موجود ہے۔کئی حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت البقیع میں دفن ہونے والوں کے متعلق رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہ جنتی ہیں۔(طبقات ابن سعد القسم الثانی الجزء الثانی) چنانچہ بعض نادانوں نے جب حضرت عثمان شہید ہوئے تو جو ان کے متعلق خیال کرتے تھے کہ کافر ہو گئے انہوں نے کہا ہم اس جگہ دفن نہ ہونے دیں گے۔کیونکہ ان کا خیال تھا کہ جو اس جگہ دفن ہوگا وہ جنتی ہو گا۔اس وجہ سے وہ جنت کے ٹھیکیدار کہنے لگے ہم دفن نہ ہونے دیں گے۔انہوں نے یہ اسی لئے کہا کہ اس زمین کے متعلق رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ اس میں دفن ہونے والا جنتی ہوگا۔میں اس کا نام وعدہ نہیں رکھتا نہ اس کا اور نہ اس کا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مقبرہ کے متعلق فرمائی۔بلکہ یہ خبر ہے اور وعدہ اور خبر میں فرق ہوتا ہے۔اس کے ساتھ علامتیں بتائی گئی ہیں کہ جس میں وہ پائی جائیں۔اس کو پہچان لو کہ جنتی ہو گا۔پس پہلے تو وصیت سے ٹھو کر غیر احمدیوں کو لگی۔اور يضل به كثيرا اس طرح پورا ہوا جس سے معلوم ہوا کہ یہ یهدی به کثیرا بھی ضرور ہوگا۔دوسری ٹھوکر کمزور ماننے والوں کو لگی انہوں نے وہی خیال کر لیا جو رسول کریم ﷺ کے اقوال سے کمزور ایمان والے مسلمانوں نے سمجھ لیا تھا کہ جو بقیع میں داخل ہو جائے وہ جنتی ہو گا۔اسی طرح انہوں نے خیال کر لیا کہ جو بہشتی مقبرہ میں داخل ہو جائے خواہ کسی طرح داخل ہو جنتی ہو گا۔یہ خیال کر کے انہوں نے دھوکہ سے اس میں داخل ہونا چاہا۔مثلاً اس طرح کہ کہہ دیا ہمارے مرنے کے بعد اتنی جائیداد لے لینا۔حالانکہ اتنی جائیداد ہی نہ تھی۔اس طرح