نظام وصیت — Page 67
67 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ کہ اس جگہ دفن کر دیا گیا ہے۔ہرگز نہیں۔نہ حضرت مسیح موعود کا یہ منشاء تھا اور نہ خدا تعالیٰ کا کہ خواہ کوئی کسی طرح اس زمین میں دفن ہو جنتی ہو گا بلکہ جو اصل منشاء تھاوہ یہ تھا کہ وصیت کے قواعد کو پورا کر کے جو داخل ہوگا وہ جنتی ہوگا گویا وصیت کے قواعد پورے کرنا علامت ہوگی اس بات کی کہ پورا کرنے والا بہشتی ہے۔جیسے قرآن کریم میں مومن کی علامتیں بتائی گئی ہیں کہ نماز کا پابند ہو، زکوۃ دے، حج کرے، خدا کی توحید پر ایمان لائے ، رسولوں پر ایمان لائے تو جنتی ہو گا۔مگر دوسری جگہ کہا محمد ﷺ پر ایمان لانے والے جنتی ہیں۔اس کے یہی معنی ہیں کہ ان شرائط کے ساتھ جو ایمان لائیں صل الله وہ جنتی ہیں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود نے یہ رکھا کہ جو ان شرائط کے ساتھ اپنے آپ کو پیش کرتا ہے خدا تعالیٰ اسے جنتیوں میں شمار کرتا ہے۔کیونکہ انسان کا دل اس بات کا خواہاں ہوتا ہے کہ اسے کس طرح پتہ لگے کہ خدا کی رضا اسے حاصل ہوگئی ہے اور ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ کی مرضی اور منشاء معلوم کرنے کے ذرائع مختلف ہوتے ہیں اس زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں کی تڑپ معلوم کر کے وصیت کے قواعد کے ذریعہ بتایا کہ اگر تم میں ایسا اخلاص ایسا ایمان اور ایسا تعلق باللہ ہوتو سمجھ لو کہ تم جنتی ہو گئے۔۔۔اس سے کم ہو تو بات مشتبہ ہے۔خدا ہی جانتا ہے تمہارا انجام کیا ہو گا تو یہ ایک ذریعہ ہے جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کون جنتی ہے جیسے کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے آپ کی معرفت فرمایا تھا جنت ان کو ملے گی جو خدا کی راہ میں جان اور مال دیں گے۔چونکہ اس وقت جہاد کی ضرورت تھی۔اس لئے جان کی بھی شرط تھی اور اس وقت یہی بہشتی مقبرہ تھا اور اس کی علامت ی تھی کہ جان اور مال دیا ہے۔مگر اب ایسا زمانہ ہے کہ پہلے زمانہ کی طرح جانیں دینے کی ضرورت نہیں ہے۔بلکہ اخلاق اور اعمال اور اموال کی قربانی کی ضرورت ہے۔کوئی کہے کہ رسول کریم ہے صلى الله کے وقت بہشتی مقبرہ کیوں نہ بنایا گیا؟ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے اس زمانہ میں حالات ایسے تھے که تاریخی طور پر بہشتی لوگوں کی قبروں کو محفوظ رکھنا مشکل تھا۔اس وقت ریلیں نہ تھیں کہ دور دراز۔