نظام وصیت

by Other Authors

Page 42 of 260

نظام وصیت — Page 42

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 42 کروں اگر مجھے کچھ دے دو تو میں بھی اللہ میاں سے اپنے لئے جنت کا سودا کرلوں۔اگر اس کے باپ کو اس سے زیادہ محبت ہوتی ہے تو وہ یہ خیال کر کے کہ آخر میری جائیداد نے اسی کے پاس جانا ہے اسی وقت اپنی جائیداد کا ایک حصہ اسے دے دیتا ہے اور وہ وصیت کر کے اپنے رب سے جنت کا سودا کر لیتا ہے۔اس طرح بقیہ جائیداد کا پھر ایک اور حصہ قومی فنڈ میں آجمع ہوتا ہے اور اگر اس کا باپ نسبتاً سخت ہوتا ہے اور وہ یہ نہیں مانتا کہ اپنی زندگی میں لڑکے کو جائیداد دے دے تو نیک بخت لڑکا اس جائیداد کا جو ابھی اسے نہیں ملی سودا کر دیتا ہے اور وصیت کر دیتا ہے کہ گوابھی میرے پاس کوئی جائیداد نہیں مگر میں وصیت کرتا ہوں کہ اس وقت جو میری آمدن ہے اس کا دسواں حصہ وصیت میں ادا کرتا رہوں گا اور اگر آئندہ میری کوئی جائیداد ہوئی تو اس کا دسواں حصہ بھی ادا کروں گا جس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنے ہوتے ہیں کہ جب ابا جان فوت ہو جائیں گے اور ان کی جائیداد میرے قبضہ میں آجائے گی تو جو حصہ مجھے باپ کی وصیت کے بعد بچی ہوئی جائیداد میں سے ملے گا اس کے دسویں حصہ کا ابھی سے وعدہ کرتا ہوں۔اس طرح بقیہ جائیداد کا پھر ۱۰/ اقومی فنڈ میں آجاتا ہے۔پھر دیکھوڈ نیوی کلام کے ماتحت تو جن لوگوں پر ٹیکس لگتا ہے وہ نا خوش ہوتے ہیں اور جن پر نہیں لگتا وہ خوش ہوتے ہیں۔امیر ناراض ہوتے ہیں کہ ہم پر کیوں ٹیکس لگایا گیا اور غرباء خوش ہوتے ہیں کہ امراء کا مال ہمیں ملا لیکن وصیت کے قاعدہ کے ماتحت کیا ہوتا ہے؟ وصیت کو غور سے پڑھ کر دیکھ لو وصیت کی ابتداء جائیداد پر رکھی گئی تھی مگر چونکہ مال جبرا نہیں چھینا جا تا بلکہ اس کے بدلہ میں جنت کی سی نعمت پیش کی جاتی ہے اس لئے وہ لوگ جن کے لئے مال لیا گیا تھا انہوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ امراء جن کی جائیداد میں لی گئی ہیں خوب لوٹے گئے بلکہ وہ رنجیدہ ہوئے کہ اس نیک سو دے سے ہمیں کیوں محروم کیا گیا ہے اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے درخواست کی کہ ہمارے لئے بھی راستہ نکالا جائے اور خدا تعالیٰ کی اجازت سے آپ نے انہیں اپنی آمدنیوں کی وصیت کرنے کی اجازت دے دی۔گویا وہ طریق جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جاری