نظام وصیت

by Other Authors

Page 43 of 260

نظام وصیت — Page 43

43 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ کیا ہے اس کی ابتداء جائیدادوں سے ہوئی مگر پھر ان لوگوں کے اصرار پر جن کی جائیدادیں نہیں تھیں اللہ تعالیٰ کی اجازت سے آپ نے آمدنیوں کی وصیت کی بھی اجازت دے دی اور اس طرح جائیداد اور آمد دونوں کے مقررہ حصے قومی فنڈ میں جمع ہونے شروع ہو گئے۔( نظام نو۔انوار العلوم جلد 16 صفحہ 594 تا 596) (5) ہر فرد بشر کی ضرورت پوری کرنے والا نظام: میں بتا چکا ہوں کہ وصیت کے متعلق یہ خیال کرنا غلط ہے کہ اس کا روپیہ صرف تبلیغ اسلام پر خرچ کیا جا سکتا ہے ” الوصیہ“ کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ اس روپیہ سے اور کئی مقاصد کو بھی پورا کیا جائے گا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا ہے ہر ایک امر جو مصالح اشاعت اسلام میں داخل ہے جس کی اب تفصیل کرنا قبل از وقت ہے وہ تمام اموران اموال سے انجام پذیر ہونگے یعنی آئندہ زمانہ میں اشاعت اسلام کی ایسی مصلحتیں ظاہر ہوں گی یعنی اسلام کو عملی جامہ پہنا کر اس کی خوبیوں کے اظہار کے مواقع ایسے نکلیں گے کہ ان پر وصیت کے روپیہ کو خرچ کرنا جائز ہی نہیں بلکہ ضروری ہوگا۔پھر ” یتیموں اور مسکینوں کے الفاظ بھی حضرت مسیح موعود نے استعمال فرمائے اور بتایا ہے کہ اس روپیہ پر محتاجوں کا حق ہے۔پس در حقیقت ان الفاظ میں اسی نظام کی طرف اشارہ ہے جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے کہ ہر فرد بشر کے لئے کھانا مہیا کیا جائے ، ہر فرد بشر کے لئے کپڑا مہیا کیا جائے، ہر فرد بشر کے لئے مکان مہیا کیا جائے ، ہر فرد بشر کے لئے تعلیم اور علاج کا سامان مہیا کیا جائے اور یہ کام ٹیکسوں سے نہیں ہو سکتا اسی طرح ہو سکتا ہے کہ جائیدادیں لی جائیں اور اس ضرورت پر خرچ کی جائیں۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ ” کیا پڑی اور کیا پدی کا شور با تمہاری حیثیت ہی کیا ہے کہ تم ایسے دعوے کرو اور اس قسم کی موہوم امیدوں کو جامعہ عمل پہنا سکو گر یہ شبہ بھی درست نہیں اس لئے کہ جب ہم یہ بات پیش کرتے ہیں تو اس لئے پیش کرتے ہیں کہ ہم اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ ہماری جماعت کا دنیا کے تمام ممالک میں پھیل جانا مقدر ہے۔پس جبکہ ہم خدا تعالیٰ کے الہامات اور اس کے