نظام وصیت — Page 41
41 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ خلاف جد و جہد شروع کر دیتے ہیں اور ان کے دلوں میں غریبوں کو جائیدادیں دے کر کوئی خوشی اور بشاشت پیدا نہیں ہوتی ، ایک روسی سے جس وقت اس کی جائیداد چھین لی جاتی ہے وہ ہنستا نہیں بلکہ روتا ہوا اپنے گھر جاتا ہے اور اپنے رشتہ داروں سے کہتا ہے کم بخت حکومت نے میری جائیداد مجھ سے چھین لی لیکن اس نظام نو میں ایک زمیندار جس کے پاس دس ایکڑ زمین ہوتی ہے وہ ایک یا دو یا تین ایکڑ زمین دے کر روتا نہیں بلکہ دوسرے ہی دن اپنے بھائی کے پاس جاتا ہے اور اسے کہتا ہے اے بھائی! مجھے مبارکباد دو کہ میں نے وصیت کی توفیق پائی اور خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی جس کے دوسرے معنے یہ ہوتے ہیں کہ غریبوں کے لئے دو یا تین ایکڑ زمین مجھ سے چھین لی گئی ہے۔مگر وہ روتا نہیں ، وہ غم نہیں کرتا بلکہ کہتا ہے بھائی جان! مجھے مبارکباد دو کہ میں نے وصیت کر دی اور کہتا ہے اللہ اب مجھے وہ دن بھی دکھائے کہ آپ بھی وصیت کر دیں اور میں آپ کو مبارکباد دینے کے قابل ہو جاؤں۔جس وقت بیوی کو وہ یہ خبر سناتا ہے بیوی یہ نہیں کہتی کہ خدا تباہ کرے ان لوگوں کو جنہوں نے ہماری جائیداد لوٹ لی بلکہ اس کے ہونٹ کا پنپنے لگ جاتے ہیں اس کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں اور وہ للچائی ہوئی نگاہوں سے ان نگاہوں سے جن سے وہ اپنے خاوند کے دل کو چھینا کرتی ہے اس کی طرف دیکھتی ہے اور کہتی ہے دیکھو جی! اللہ نے آپ کو یہ توفیق دی کہ آپ نے وصیت کر دی میرے پاس اپنی جائیداد نہیں میں کس طرح وصیت کروں آپ اپنی جائیداد میں سے کچھ مجھے دے دیں تو میں بھی اس نعمت میں شامل ہو جاؤں اور وہ اپنے نسوانی داؤ پیچ اور ان تیروں سے کام لے کر جو کہ خاوند ا بہت کم برداشت کر سکتے ہیں آخرا سے راضی کر ہی لیتی ہے اور وہ اسے اپنی جائیداد میں سے کچھ حصہ دے دیتا ہے اس پر بیوی پھر اسی جائیداد کی وصیت کرتی ہے اور کہتی ہے میں اس کے ۱۰/ ایا ۸/ ای ۱/۶ حصہ کی وصیت کرتی ہوں گویا اس بچی ہوئی جائیداد پر پھر ایمان ڈا کہ مارتا اور اس کا ایک اور حصہ قومی فنڈ میں منتقل ہو جاتا ہے اتنے میں بچہ گھر میں آتا ہے اور جب وہ سنتا ہے کہ اس کے باپ اور اس کی ماں نے وصیت کر دی ہے تو وہ دلگیر ہو کر بیٹھ جاتا ہے اور اپنے باپ سے کہتا ہے ابا جی ! اللہ آپ کو دیر تک ہمارے سروں پر سلامت رکھے۔میرے پاس تو کچھ نہیں میں کس طرح اللہ سے یہ ارزاں سو دا