نظام وصیت — Page 236
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 236 چندوں میں ادا ئیگی کی رفتار شاید اتنی نہ رہے جتنی پہلے تھی۔لیکن جیسا کہ ہم نے دیکھا اور کوائف نے ثابت کر دیا کہ چندہ دہندگان کی تعداد میں بھی خوش کن اضافہ ہے اور وصولی میں بھی الحمد لله۔جہاں اللہ تعالیٰ کی حمد سے دل بھرتا ہے وہاں اس طرف بھی توجہ جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کاموں میں مزید وسعت بھی انشاء اللہ تعالیٰ پیدا فرمانے والا ہے اور جو پہلے سے انتظام کر رہا ہے اور ہمیں ہوشیار بھی کر رہا ہے۔قربانیوں کی طرف بھی مائل کر رہا ہے۔جو کام ہمارے سپرد ہیں ، ان میں انشاء اللہ بہت وسعت پیدا ہونے والی ہے اور یہ بھی کہ تم دنیا کے کسی کریڈٹ کرنچ (Credit Crunch) کی فکر نہ کرو۔میرے ساتھ سودا کرتے جاؤ میں انشاء اللہ تعالیٰ تمہاری توفیقیں بڑھاتا چلا جاؤں گا۔اللہ کرے کہ ہمارے ایمان بھی ان کو دیکھ کر بڑھتے چلے جائیں۔ہماری قربانیاں بھی بڑھیں۔ہماری ترقی کی رفتار بھی بڑھے اور ہم فتح کے نظارے بھی دیکھنے والے ہوں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تحریک جدید کے بارے میں فرمایا تھا کہ یہ وصیت کی ارہاص کے طور پر ہے۔وصیت کے لئے ایک بنیادی اینٹ ہے۔اس سے وصیت کی طرف بھی توجہ پیدا ہوگی اور قربانی کی طرف بھی توجہ پیدا ہوگی۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا جہاں جماعت کو وصیت کی طرف توجہ پیدا ہوئی ہے وہاں تحریک جدید میں بھی اضافہ ہوا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ وصیت کرنے والوں کے بچے اور آئندہ جو ہماری نئی نسل آرہی ہے بچپن سے لڑکپن میں یا 7 سال کی عمر میں، اطفال الاحمدیہ میں شامل ہورہے ہیں وہ بھی تحریک جدید میں قربانی کر کے آئندہ کے لئے اپنے آپ کو وصیت کے لئے بھی تیار کر رہے ہیں اور قربانیوں کے لئے بھی تیار کر رہے ہیں۔دنیا کہتی ہے اور معیشت دان یہ کہا کرتے ہیں کہ جب معاشی کرائسز آتے ہیں تو غربت کا ایک شیطانی چکر جو ہے وہ شروع ہو جاتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ جنہیں خیر امت بناتا ہے ان کے لئے معاشی کرائسز کے باوجود چندوں میں اضافہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی رحمتوں کو سمیٹنے اور نیکیوں کی طرف مائل ہونے کا ذریعہ بنتا ہے اور یوں ہمار ا رحمان خدا ہمیں اپنی رحمت کی آغوش میں لے لیتا ہے اور فـــاسـتـقـبــوا الخیرات کا ادراک ہم میں پیدا ہوتا ہے اور جب تک ہم نیکیوں میں بڑھتے چلے جانے کی سوچ کو