نظام وصیت

by Other Authors

Page 223 of 260

نظام وصیت — Page 223

223 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ ہیں۔میں نے پندرہ ہزار کہا تھا۔ابھی بہت سے وصیت فارم جماعتوں میں پڑے ہوئے ہیں۔اور میرے خیال میں اس سے کہیں زیادہ درخواستیں آچکی ہیں جتنا کار پرداز کا خیال ہے۔بہر حال جماعت نے اس تحریک پر لبیک کہتے ہوئے توجہ دی۔حضور نے فرمایا: اب اگلا ٹارگٹ تھا کہ اس وقت جو کمانے والے ہیں یا 2008 ء تک جو بھی کمانے والے ہوں گے اس کا پچاس فیصد میں شامل کرنا ہے۔انشاء اللہ حضور نے فرمایا: بعض چھوٹی چھوٹی جماعتوں نے یہ ٹارگٹ حاصل بھی کرلیا ہے۔اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس نظام کو افراد جماعت سمجھنے لگ گئے ہیں۔اور اپنے تقویٰ کے معیار کو بڑھانے کی کوشش میں لگ گئے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ آج سے سو سال پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس نظام کا اعلان اس شہر میں فرمایا تھا اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور اس کی تقدیر کے تحت ہی اس شہر سے میں آپ کو اگلا ٹارگٹ جس کی گزشتہ سال تحریک کی گئی تھی اس کی طرف توجہ دلا رہا ہوں۔حضور انور نے فرمایا کہ : بہت سارے لوگ لکھتے ہیں کہ ہم اس فکر میں تو ہیں کہ وصیت کر لیں لیکن اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتے۔حضور انور نے فرمایا: یاد رکھیں کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو دعائیں پڑھی ہیں یہ اس لئے پڑھ کر سنائی ہیں کہ جب نیک نیتی کے ساتھ اس نظام میں وابستہ ہوں گے تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کے طفیل آپ کو اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی طرف توجہ ہوگی۔پس آگے بڑھیں اور اس پاک نظام میں شامل ہونے کی کوشش کریں۔خدا کے مسیح کی آواز پر لبیک کہیں اور اُن حقوق کی ادائیگی کے معیار حاصل کرتے جائیں جن کی طرف تقویٰ کی راہوں پر چلتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے توجہ دلائی ہے۔حضور نے فرمایا: بہر حال تقویٰ پر چلنے کا عزم اور اسکے لئے دعا ضرور کریں۔اللہ کے خوف اور آنکھ کے پانی سے تقویٰ کی جڑوں کو مضبوط کریں اور نیکیوں کی لہلہاتی فصلوں سے اپنی خوبصورتی اور حسن