نظام وصیت — Page 224
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 224 میں اضافہ کریں۔اس رسالہ الوصیت میں حضرت مسیح موعود نے ہمیں یہ خوشخبری بھی دی کہ اگر تم تقویٰ پر قائم رہے۔اسکی جڑیں مضبوطی سے تمہارے دلوں میں قائم رہیں تو اسکے رسیلے اور میٹھے پھلوں میں سے ایک نعمت جو خلافت کی نعمت ہے اس کا بھی جماعت میں قیام رہے گا۔حضور نے فرمایا کہ: اس نعمت سے بھی اگر فائدہ اٹھانا ہے تو تقویٰ کی جڑوں کو اپنے دلوں میں مضبوط کرنا ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خدا کا وعدہ ہے اور وہ سچے وعدوں والا خدا آج تک اپنے وعدے پورے کرتا آیا ہے اس انعام سے فیض اٹھانے والے انشاء اللہ پیدا ہوتے چلے جائیں گے۔لیکن ساتھ ہر ایک کو یہ فکر بھی ہونی چاہیئے کہ تقویٰ سے خالی ہوکر ہم کہیں جڑی بوٹیوں کی طرح جماعت کے اس حسین باغ سے کہیں باہر نہ نکال دیئے جائیں۔ہم کہیں اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں نہ آجائیں۔اس لئے اللہ نہ کرے کہ کبھی ایسا دن آئے جب کسی احمدی کے دل میں ہدایت کے بعد کسی قسم کی بھی کمی پیدا ہو۔اس لئے اپنے ایمانوں کی مضبوطی کے لئے دعائیں مانگتے رہنا چاہیئے۔حضور نے فرمایا: مجھے گزشتہ سال کسی نے یہ بھی لکھا تھا کہ ہجری قمری کے لحاظ سے 2005ء میں خلافت کو بھی سو سال پورے ہورہے ہیں۔لیکن بہر حال اس لحاظ سے آج وصیت کے نظام کو سو سال پورے ہونے کے علاوہ قمری سال کے لحاظ سے خلافت احمدیہ کو بھی سو سال پورے ہو گئے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائید کا یہ بھی ایک نشان ہے کہ باوجود اس کے کہ پہلے اس لحاظ سے سوچ کر یہاں آنے کا پروگرام نہیں بنا تھا اور باوجود ایسے حالات کے جن کو موافق نہیں کہہ سکتے اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا فرمائے کہ دونوں لحاظ سے صدیوں کے پورا ہونے پر خلیفہ وقت وہاں موجود ہے جہاں سے یہ پیغام دنیا کو دیا گیا تھا، جہاں سے خلافت احمدیہ کا آغاز ہوا تھا۔حضور انور نے فرمایا: اللہ کرے جہاں سے دنیا کے مالی نظام فائدہ اٹھانے والے ہوں، جہاں غریبوں ، یتیموں اور بیواؤں کے حقوق قائم ہوں۔جہاں محض اور محض خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے حقوق العباد کی ادائیگی ہو۔جہاں اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے کے اعلیٰ معیار قائم ہوں