نظام وصیت

by Other Authors

Page 204 of 260

نظام وصیت — Page 204

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 204 پس آپ نے وصیت کا نظام جاری کرتے ہوئے یہ خوشخبری بھی دی ہے کہ یہ نظام خدا تعالیٰ کا قرب پانے کا ایک ذریعہ ہے اور اس لئے اگر تم چاہتے ہو کہ تمہیں خدا تعالیٰ سے خاص انعام ملے تو اس وو نظام میں شامل ہو جاؤ اور اس دروازے میں داخل ہو جاؤ۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : دنیا کے کام کسی نے نہ تو کبھی پورے کئے ہیں اور نہ ہی کرے گا۔دنیا دار لوگ نہیں سمجھتے کہ ہم کیوں دنیا میں آئے اور کیوں جائیں گے۔کون سمجھا وے جب کہ خدائے تعالیٰ نے نہ سمجھایا ہو۔دنیا کے کام کرنا گناہ نہیں مگر مومن وہ ہے جو در حقیقت دین کو مقدم سمجھے اور جس طرح اس ناچیز اور پلید دنیا کی کامیابیوں کے لئے دن رات سوچتا یہاں تک کہ پلنگ پر لیٹے بھی فکر کرتا ہے اور اس کی ناکامی پر سخت رنج اٹھاتا ہے ایسا ہی دین کی غمخواری میں بھی مشغول رہے۔دنیا سے دل لگانا بڑا دھوکہ ہے۔موت کا ذرا اعتبار نہیں۔“ 66 ایک جگہ آپ نے فرمایا۔۔۔مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر چہارم مکتوب نمبر 9 صفحہ نمبر 73,72 ) ”دنیا کی لذتوں پر فریفتہ مت ہو کہ وہ خدا سے جدا کرتی ہیں۔اور خدا کے لئے تلخی کی زندگی اختیار کرو۔وہ درد جس سے خدا راضی ہو اُس لذت سے بہتر ہے جس سے خدا ناراض ہو جائے۔اور وہ شکست جس سے خدا راضی ہو اُس فتح سے بہتر ہے جو موجب غضب الہی ہو۔اُس محبت کو چھوڑ دو جو خدا کے غضب کے قریب کرے۔اگر تم صاف دل ہو کر اُس کی طرف آجاؤ تو ہر ایک راہ میں وہ تمہاری مدد کرے گا اور کوئی دشمن تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔خدا کی رضا کو تم کسی طرح پاہی نہیں سکتے جب تک تم اپنی رضا چھوڑ کر، اپنی لذات چھوڑ کر، اپنی عزت چھوڑ کر، اپنا مال چھوڑ کر، اپنی جان چھوڑ کر اس کی راہ میں وہ تلخی نہ اُٹھاؤ جو موت کا نظارہ تمہارے سامنے پیش کرتی ہے۔لیکن اگر تم تلخی اُٹھا لو گے تو ایک پیارے بچے کی طرح خدا کی گود میں آجاؤ گے۔اور تم اُن راستبازوں کے وارث کئے جاؤ گے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ہر ایک راہ نیکی کی اختیار کرو۔نہ معلوم کس راہ سے تم قبول کئے جاؤ۔“ الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 308,307