نظام وصیت — Page 205
205 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ تو یہ وصیت کا جب نظام جاری فرمایا تو اُس وقت کا آپ کا یہ ارشاد ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا کی آخرت کے مقابلہ میں اتنی حیثیت ہے جتنی کہ تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈبوئے اور پھر وہ نکال کر دیکھے کہ اُس پر کتنا پانی لگا ہوا ہے۔“ 66 ( ترمذی کتاب الزھد - باب ماجاء في هوان الدنيا على الله) تو جب دنیا کی اتنی بھی حیثیت نہیں ہے تو ہمیں کس قدر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔جس چیز کے ہم پیچھے پڑے ہوئے ہیں اُس کی تو کوئی حیثیت نہیں اور جو اصل مقصود ہونا چاہیئے اُس کی طرف توجہ ہی نہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی رضا ہی ہے جو انجام بخیر کی طرف لے جاتی ہے۔۔۔۔جب وصیت کا نظام شروع کیا اُس وقت 1905ء میں آپ نے یہ رسالہ لکھا تھا اور اس کو لکھنے کی وجہ یہ فرمائی تھی کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ میرا وقت قریب ہے اور اب ایک تو نظام خلافت کا سلسلہ شروع ہوگا جو میرے بعد میرے کاموں کی تکمیل کرے گا۔اور دوسرا اس سلسلہ کو چلانے کے لئے ایسے مخلصین جماعت میں پیدا ہوتے رہیں گے جن کا پہلے ذکر آچکا ہے جو روحانیت کے بھی اعلیٰ معیار تک پہنچنے والے ہوں گے اور مالی قربانیوں کو بھی اعلیٰ معیار تک پہنچانے والے ہوں گے۔اور ایسے مخلصین جو ہوں گے اُن کی انفرادیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں بہشتی قرار دیا ہے اور اس وجہ سے اُن کا ایک علیحدہ قبرستان بھی ہوگا جہاں اُن کی تدفین ہوگی۔اس لئے بہشتی مقبرہ کا قیام عمل میں آیا تھا۔پس یہ وہ نظام ہے جو اس زمانے میں خدا تعالیٰ کا قرب پانے کی یقین دہانی کرانے والا نظام ہے۔یہ وہ نظام ہے جو دین کی خاطر قربانیاں دینے والی جماعت کا نظام ہے۔اور یہ وہ جماعت ہے جو دنیا میں دکھی انسانیت کی خدمت کرتی ہے۔پس ہر احمدی ان باتوں کے سننے کے بعد غور کرے اور دیکھے کہ کس قدر فکر سے اور کوشش سے اس نظام میں شامل ہونا چاہیئے۔ہماری نیکی کے معیار وہاں تک نہیں پہنچے کہ شرائط کو پورا کر سکیں : بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہماری نیکی کے معیار وہاں تک نہیں پہنچے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس معیار کی شرائط کو پورا کرسکیں تو وہ سن لیں کہ یہ نظام ایک ایسا انقلابی نظام ہے کہ اگر نیک نیتی سے اس میں شامل ہوا جائے اور شامل ہونے کے بعد جیسا کہ آپ نے فرمایا اپنے اندر بہتری کی کوشش