نظام وصیت

by Other Authors

Page 184 of 260

نظام وصیت — Page 184

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 184 رکھتی تھی ، نذر باندھے ہوئے تھی اور بہت اس کی خواہش تھی کہ میں خدا کی راہ میں اس اس طرح خرچ کروں لیکن پیشتر اس کے کہ اس کی یہ خواہش پوری ہوتی خدا نے اسے واپس بلا لیا۔اب کیا یہ ممکن ہے کہ میں اس خواہش کو اس کے مرنے کے بعد پورا کردوں اور اس کے نام پر صدقات دیتا رہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا درست ہے تم ایسا کر سکتے ہو۔(مسلم کتاب النذ رحدیث نمبر ۳۰۹۲۰) اسی طرح اور بھی مختلف شکلوں میں یہ روایت آتی ہے جس سے قطعی طور پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ نیکی جوانسان زندگی میں کرتا رہا ہو خصوصاً مالی قربانی اور اس کی حسرت پوری نہ ہوئی ہو، وہ چاہتا ہو کہ اور دے لیکن توفیق نہ پانے کی وجہ سے آگے اور مزید دے نہ سکا ہو۔اس کی اولا د جب اس کے نام پر اس کی خاطر خدا تعالیٰ کے حضور کچھ پیش کرے گی تو اللہ تعالیٰ اسے پہنچا دے گا اور یہ وہ حصہ ہے جومرنے کے بعد بھی اس کے لئے خرچ کیا جاسکتا ہے۔لیکن جو شخص دنیا میں نادہند ہو، دنیا میں خدا کے مال کھاتا ہو یا بنی نوع انسان کے مال کھاتا ہو۔اگر وہ مرجاتا ہے تو اس کی امیر وکبیر اولاد کے دل میں اگر یہ وہم پیدا ہو جائے کہ وہ کروڑوں روپیہ دے کر خدا سے اس کی گردن چھڑالیں گے یہ محض وہم ہے۔وہ آیات جن کے مضمون کا میں نے ذکر کیا ہے وہ اس کی راہ میں کھڑی ہو جائیں گی۔لا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خُلَةٌ وَ لَا شَفَاعَةُ کی آواز آئے گی۔نہ دوستی کام آئے گی نہ سودے بازی کام آئے گی ، نہ کسی قسم کی سفارش چلے گی۔پس اس آیت کے مضمون کو اس رنگ میں سمجھنے کے بعد ہمیں اپنے چندوں کو نکھارنے کے لئے دو بہت ہی اہم گر مل گئے۔اول یہ کہ جب ہم خدا کی راہ میں کچھ پیش کریں تو اپنے نفس کو خوب کھنگال کر، ہر غیر اللہ کے تصور سے پاک کرنے کے بعد خدا کے حضور پیش کریں۔نہ اس میں ریاء کا شائبہ ہو نہ اور کسی قسم کی نفس کی ملونی ہو۔کوئی دھوکہ نہ ہو، تقویٰ سے گری ہوئی کسی قسم کی کوئی بات نہ ہو صاف ستھرا کر کے جس طرح مالی اپنا پھل سجا کر منڈی میں لے کر جاتا ہے جس طرح زمیندار بعض دفعہ شلغم دھو دھو کر اس کی سفیدی نکھار کر منڈی میں لے کر جاتا ہے۔اس طرح اپنے اعمال کو خوب