نظام وصیت

by Other Authors

Page 183 of 260

نظام وصیت — Page 183

183 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ ایک جہت سے اسے ہم دو قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔اول وہ مالی قربانی جو خالصہ للہ کی جاتی ہے، جو تقویٰ پر مبنی ہوتی ہے۔اس کے متعلق الہی قانون یہ ہے کہ وہ تھوڑی بھی ہو تو خدا کی نظر میں بے شمار کے طور پر مقبول ہوگی اور ایک مالی قربانی وہ ہے جو دنیا کے دکھاوے کے لئے یا دیگر اغراض کی خاطر کی جاتی ہے۔وہ اگر سونے کے پہاڑوں کے برابر بھی ہو تو وہ نا مقبول ہوگی۔تو اس آیت میں اسی مضمون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب تک تمہیں دنیا میں خدا تعالیٰ نے خرچ کی توفیق بخشی تم اس غلط نہی میں مبتلا نہ ہونا کہ تم نے سونے کے پہاڑوں کے برابر اس کی راہ میں خرچ کیا اگر کسی تقوی کی کمزوری کی وجہ سے کسی اندرونی گناہ کی وجہ سے خدا تعالیٰ کو دنیا میں وہ نا مقبول ہوا تو آخرت میں بھی تمہارے حصے میں کچھ بھی لکھا نہیں جائے گا اور اس وقت تمہارا یہ اصرار کہ میں نے تو خدا کی راہ میں اتنا سونا خرچ کیا تھا، اتنے خزانے لٹائے تھے اس اعتراض کی، اس وہم کی کوئی بھی حقیقت نہیں ہوگی۔اس وقت خدا کے سامنے اپنی مالی قربانیاں پیش کرنا کہ فلاں گناہ کے بدلے یہ قربانیاں قبول فرما اور مجھے بخش دو۔یہ خیال، یہ وہم رد کر دیا جائے گا۔ایک تو اس کا یہ معنی ہے۔دوسرا اس کا اور معنی بھی ہے کہ مرنے کے بعد جب انسان کا دارالعمل سے تعلق کٹ جاتا ہے تو اکثر صورتوں میں اس کی طرف سے پھر وہ قربانیاں پیش نہیں کی جاسکتیں جو اس نے خود اپنی زندگی میں نہیں پیش کیں اور اگر اس کی اولاد اس کے مرنے کے بعد کروڑ ہا روپیہ بھی خرچ کرے تو اکثر صورتوں میں وہ اس کو نہیں پہنچے گا۔یہ مضمون کچھ مزید وضاحت چاہتا ہے کیونکہ ہمیں علم ہے کہ ماں باپ کے لئے اپنے مرحوم پیاروں کے لئے ہم خرچ کرتے ہیں، چندے بھی دیتے ہیں، زکوۃ بھی دیتے ہیں۔تو وہ پھر کیوں مقبول ہو گا جب دار العمل سے اس کا تعلق کٹ گیا ؟ اس مسئلہ کو خود حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھول دیا ہے۔پس اس استثناء کو بہر حال پیش نظر رکھا جائے گا جو استثناء اصدق الصادقین حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود فرمایا ہے اور وہ استثناء یہ ہے کہ آنحضور علیہ کی خدمت میں یہ سوال کیا گیا کہ یا رسول اللہ ! میری والدہ جب زندہ تھی تو یہ یہ نیک خرچ کرنے کی تمنا